ممبئی20دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پیرکوکہاہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس دعوے سے کہ انہوں نے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیاتھا کہ 2019 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔
دہلی میں ریاستی اسمبلی انتخابات کے بعد دہلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سنجے راوت نے الزام لگایاہے کہ یہ بی جے پی ہی تھی جس نے اقتدار میں بڑی شراکت کے لیے شیوسینا کو دھوکہ دیاہے۔
شیوسینا کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی ہندوتوا کو کبھی نہیں چھوڑے گی۔ادھو ٹھاکرے کے زیرقیادت پارٹی نے 2019 کے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی سے تعلقات توڑ لیے جب دونوں پارٹیوں کے درمیان چیف منسٹر کے عہدے کی تقسیم کو لے کر اختلافات سامنے آئے۔
بی جے پی سے اتحاد توڑنے کے بعد شیوسینا نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی حکومت بنائی۔
ٹھاکرے اور شیوسینا پر تنقید کرتے ہوئے امت شاہ نے کہاہے کہ چونکہ آپ کو وزیر اعلیٰ بننا تھا، آپ نے بی جے پی کو دھوکہ دیا اور بن گئے۔ اقتدار کے لیے ہندوتوا سے سمجھوتہ کر کے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہاہے کہ ان کی باتیں حقیقت سے دور ہیں۔
ہم اس میں حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ہم (شیو سینا)، ہماری حکومت اور ہمارے ہندوتوا پر سوال کر کے ملک کو گمراہ کر رہے ہیں، لیکن لوگ ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
میں ریاست (بی جے پی) کے رہنماؤں میں یہ مایوسی دیکھ سکتا ہوں۔راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے کہاہے کہ شیوسینا نے نہ تو ہندوتوا چھوڑا ہے اور نہ ہی کبھی چھوڑ سکتی ہے۔



