لندن، 13ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دیہی علاقہ میں انتہائی غربت میں آنکھ کھولنے سے لے کر رئیل #اسٹیٹ کے اربوں ڈالرز تک زو جیان کی قسمت نے پچھلی دو دہائیوں میں #چین کی تیز ترقی کے ساتھ ساتھ سفر کیا لیکن اب وہ اپنے ایورگرینڈ گروپ کو #قرض کی دلدل سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
62 فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق سالہ زوجیان Xu Jiayin (مقامی زبان میں ’ہوا کا یان‘) ایک وقت میں چین کے سب سے امیر #آدمی تھے لیکن اب ان کی کمپنی #ایورگرینڈ سینکڑوں ارب ڈالرز کے قرضوں کے نیچے ڈوبی ہوئی ہے اور اسے خوفناک خاتمے کا خدشہ ہے جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے لیے بڑا جھٹکا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ ’ایورگرینڈ ٹوٹنے کے قریب‘ ہے جس سے #بینکوں، بانڈ ہولڈرز اور گھروں کے خریداروں کو بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔‘پچھلے ہفتے دیوالیہ ہونے کے خطرے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے گروپ نے کہا کہ اس گروپ کی مجموعی لائبلٹیز 1.97 ٹریلین یوآن (305 بلین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی ہیں۔
ایورگرینڈ نے اگست 2020 میں ریاستی کریک ڈاؤن میں ڈویلپرز پر عائد کی جانے والی نئی ’تین ریڈ لائنز‘ کے بعد لڑکھڑانا شروع کیا جس سے گروپ کو تیزی سے بہت زیادہ سستے #داموں پر #جائیدادوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ارب پتی زوجیان کی ماں اس وقت انتقال کر گئی تھی جب وہ محض ایک برس کے تھے۔ انہوں نے 2017 کی اپنی ایک تقریر میں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے #اسکول کے زمانے میں صرف میٹھا آلو اور ابلی ہوئی روٹی کھائی۔زو جیان نے کہا تھا کہ ’میں نے جو چادریں بچھائیں، جو لحافیں اوڑھیں اور جو کپڑے پہنے وہ سب پیوندوں سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں |
اس وقت میری سب سے بڑی خواہش دیہات سے باہر جانا، نوکری تلاش کرنا اور بہتر کھانا کھانے کے قابل ہونا تھا۔1976 میں سکول چھوڑنے کے بعد انہوں نے کام تلاش کرنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی کالج دوبارہ کھل گئے، زوجیان نے دھات کاری کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں انہیں ایک سرکاری سٹیل فیکٹری میں بھیج دیا گیا۔
1996 میں زوجیان نے رئیل اسٹیٹ فرم ایورگرینڈ کی بنیاد رکھی۔اس کی فرم کے پہلے مکمل منصوبے کے تمام 323 اپارٹمنٹس آدھے دن میں فروخت ہو گئے اور اس نے 80 ملین یوآن کمائے۔ایورگرینڈ نے اس کے بعد بڑے پیمانے پر ترقی کی اور پورے چین میں ڈیمانڈ پر اپارٹمنٹس کی تعمیر شروع کر دی اور تیزی سے دولت جمع کی۔
2009 میں یہ چین کی سب سے بڑی نجی رئیل اسٹیٹ کمپنی بن گئی اور زو جیان 42.2 بلین یوآن کی مالیت کے ساتھ مین لینڈ کے امیر ترین آدمی بن گئے۔2010 میں زو جیان نے اس وقت کی گوانگ زو فٹ بال ٹیم خریدی اور اس کا نام گوانگ زو ایورگرینڈ رکھا اور عالمی معیار کے کھلاڑیوں اور کوچوں پر رقم کی بارش کر دی۔
فٹبال کلب خریدنے کے بعد زو نے ٹیم کی آٹھ لیگ چیمپئن شپ جیتنے میں مدد کی۔اس گروپ (ایورگرینڈ) نے الیکٹرک گاڑیوں، سیاحت اور بوتل بند پانی میں بھی سرمایہ کاری کی۔ سپر یاٹ فین ویب سائٹ کے مطابق زو60 ملین ڈالرز کی سمندری جہازوں کا مالک ہے۔اس کے پاس ایک نجی جیٹ بھی ہے۔ آسٹریلوی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس نے 2014 میں سڈنی کی ترقی کے مواقع تلاش کرنے کے لیے وہ جیٹ استعمال کیا۔



