ڈچ محقق نے ٹھیک تین روز قبل ترکیہ-شام میں زلزلے کی کیسے درست پیشین گوئی کی؟
محقق فرینک ہوگربیٹس نے جمعہ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ جلد یا بدیر اس خطے (جنوب وسطی ترکیہ، اردن، شام، لبنان) میں 7.5 earthquake کی شدت کا زلزلہ آئے گا
لندن،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نیدرلینڈزسے تعلق رکھنے والے ایک محقق نے سوموار کو ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کی ٹھیک تین روز پہلے ہی درست پیشین گوئی کردی تھی۔نیدرلینڈز میں قائم سولر سسٹم جیومیٹری سروے (ایس ایس جی ای او ایس) سے وابستہ محقق فرینک ہوگربیٹس نے جمعہ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ جلد یا بدیر اس خطے (جنوب وسطی ترکیہ، اردن، شام، لبنان) میں 7.5 earthquake کی شدت کا زلزلہ آئے گا۔ہوگربیٹس نے یہ ٹویٹ ترکیہ اور شام میں آنے والی قدرتی آفت سے ٹھیک تین دن قبل کی تھی۔اس میں انھوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کرنے والے دیگر ممالک کا بھی حوالہ دیا تھا۔ان کی اس پیشین گوئی کا خاص پہلو یہ ہے کہ انھوں نے پہلے ہی یہ بتادیا تھا کہ خطے میں زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی جائے گی۔
ملک کی قدرتی آفات سے متعلق ایجنسی کے سربراہ کے مطابق ترکیہ میں شدید زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار سے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں آج علی الصباح 7۰8 کی شدت کا زلزلہ آیاتھا جس سے ترکیہ اورپڑوسی ملک شام میں سیکڑوں عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ صرف شام میں کم سے کم 230 افراد ہلاک اور 600 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔زلزلے کے جھٹکے قبرص اورلبنان میں بھی محسوس کیے گئے۔ اس کے بعد دوپہر کو ایک اور بڑا زلزلہ آیا جس کی ریختراسکیل پرشدت 7.7 ریکارڈ کی گئی۔
امریکہ کے ارضیاتی سروے کا کہنا ہے کہ علی الصباح آنے والے زلزلے کے چند گھنٹے بعد ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 24 منٹ پرایک اور زلزلہ آیا ہے جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔شام کے سرکاری میڈیا نے بھی بتایا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت دمشق میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دوشمالی صوبوں دہوک اورموصل اورخودمختار شمالی کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کے مکینوں نے بھی زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے ہیں ،لیکن وہاں کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔



