جگرکی گرمی کا علاج کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ جگر کی گرمی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب جانے بغیر جگر کی گرمی کا علاج کرنا ممکن نہیں ہے جگر ہمارے جسم کا اہم ترین عضو ہے جو کہ جسم میں سب سے زیادہ کام کرتا ہے اگر کسی وجہ سے جگر پر ورم آجائے تو اس کو اپنے افعال کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے کام کرنے کے دوران وہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے انسان کے ہاتھوں پیروں میں جلن محسوس ہوتی ہے اور انسان شدید سردی میں بھی گرمی محسوس کرتا ہے۔ جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے جگرکی گرمی کا علاج کرنا بہت ضروری ہے۔
جگر کی گرمی کی علامات: جگر ہمارے جسم میں دو اہم افعال انجام دیتا ہے جن میں سے ایک زہریلے مادوں کے جسم سے اخراج میں مدد دینا اور دوسرا جسم میں موجود چکنائی کو پگھلا کر توانائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر جگر کی حالت ٹھیک نہ ہو گی تو اس کے نتیجے میں جسم بہت زیادہ گرمی محسوس کرے گا۔ جلد تھکنے لگے گا اور وزن میں بھی تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں پیروں میں جلن ہوتی ہے۔ سر اور چہرے پر بہت زیادہ پسینہ بھی آسکتا ہے۔
سینے میں جلن اور بعض اوقات کھانا کھانے کے بعد اس مرض کی شدت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آسکتا ہے۔ ان علامات کی صورت میں جگر کی گرمی کا علاج کروانا بہت ضروری ہے۔ جگر کی گرمی کا علاج اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ آپ ان تمام وجوہات کا تدارک کریں جو جگر کے ورم اور اس کو گرم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ شراب نوشی جگر میں ورم پیدا کرنے اور اس کے افعال کو سست کرنے کا سب سے بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔ اگر شراب نوشی کی وجہ سے جگر میں ورم آچکا ہو تو جگرکی گرمی کا علاج یہی ہے کہ اس ورم کا علاج کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا ارادہ کیا جائے کہ شراب نوشی ترک کردیں۔
کیون کہ ورم زدہ جگر پر شراب کا ایک قطرہ بھی مرض کی شدت کو بڑھا سکتا ہے اور علاج نہ کرنے کی صورت میں کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ جگر کے مسائل کا ایک بڑا سبب غیر متوازن غذا کا استعمال بھی ہے۔ جن میں زیادہ کاربو ہائیڈریٹ والے کھانے جیسے سفید آٹا، آلو اور اس کے علاوہ ایسی اشیا جن میں چینی کا استعمال ہو شامل ہیں اس کے علاوہ سوڈے والے مشروبات بھی زیادہ مٹھاس کے سبب جگر کی سوزش کا سبب بن سکتے ہیں۔



