نیویارک ، 10جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ افغانستان سے اپنے آخری فوجی دستے نکال رہا ہے اور صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں فوجی مشن 31 اگست کو اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا، جس کے ساتھ ہی امریکہ کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بھی ختم ہو جائے گی۔سن 2001 میں شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 2448 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ #افغانستان اور #پاکستان کے علاقوں میں یہ جنگ اب تک دو لاکھ 41 ہزار سے زیادہ #انسانی #جانیں نگل چکی ہے، جس میں 71 ہزار سے زیادہ عام شہری بھی شامل ہیں۔
امریکہ نے اس خطے سے دہشت گردی کے خاتمے اور افغانستان کو مغربی طرز کی جمہوریت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے دو ٹریلین سے زیادہ رقم صرف کی ہے، لیکن اب حالیہ رائے عامہ کے جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی صدر بائیڈن کے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔ #امریکی تھنک ٹینک، بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک سینئر تجزیہ کار مائیکل اوہنلن کہتے ہیں کہ امریکی عوام نے طویل عرصے تک کبھی اس جنگ کے بارے میں نہیں سوچا اور اس کا ذکر عموماً صدارتی انتخابات میں ہی ہوتا رہا ہے۔
اس سال 8 اکتوبر کو اس واقعہ کو 20 سال مکمل ہو جائیں گے، جب اخباروں میں یہ شہ سرخیاں لگیں تھیں کہ امریکہ نے ملک سے باہر ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو اپنے #فضائی #حملوں سے نشانہ بنایا ہے جنہوں نے 11 ستمبر کو امریکہ میں چار مسافر طیارے اغوا کرنے کے بعد ان میں سے دو کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیا تھا، ایک کا ہدف پنٹاگان تھا، جب کہ چوتھا پنسلوینیا کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر 2996 لوگ مارے گئے تھے۔
اس وقت یہ تصور کرنا آسان تھا کہ امریکہ کی اس مہم کے نتیجے میں افغانستان میں ایک جابرانہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ایک جمہوری دور کا آغاز ہو گا جو دنیا بھر کے لیے دہشت گردی کا ایک متبادل ہو گا۔اسی سال نومبر میں طالبان اپنے کنٹرول کے شہروں سے ایک کے بعد ایک کر کے بے دخل ہوتے گئے اور طالبان لیڈر ملا عمر اپنا آخری مضبوط گڑھ قندھار ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت روپوش ہو گئے۔
اس کے بعد حامد کرزئی نے امریکہ کی مدد سے کابل میں ایک عبوری حکومت قائم کر لی، جسے ایک نئی صبح کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔لیکن 20 سال گزر جانے کے بعد آج ہمارے سامنے افغانستان کی ایک مختلف تصویر ہے اور وہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں جن کا 20 سال پہلے خواب دیکھا گیا تھا۔اس سارے عرصے میں کابل میں قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا سامنا رہا اور دہشت گرد گروپ القاعدہ کے تعاقب میں جانے والے امریکی فوجیوں کو اپنی توانائیاں ملک میں جاری دہشت گردی کی روک تھام پر مرکوز کرنی پڑیں۔
جیسے جیسے وقت آگے بڑھا، بکھرے ہوئے طالبان پھر سے متحد ہوتے گئے اور انہوں نے افغانستان کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔افغان جنگ کے ابتدائی دور میں #امریکہ نے #افغانستان میں پکڑے جانے والے خطرناک دہشت گردوں کے لیے گوانتانامو میں ایک جیل قائم کی جہاں امریکی سرزمین سے باہر مقدمے چلانے کے لیے کئی لوگوں کو لایا گیا۔
اس وقت بھی #گوانتانامو میں 40 قیدی موجود ہیں۔ پھر کابل کے قریب بگرام میں بھی ایک #جیل بنائی گئی۔ بعد ازاں میڈیا میں ان جیلوں کے متعلق غیرانسانی سلوک کی #کہانیاں گردش کرنے لگیں تاہم امریکی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔اسی دوران صدر #جارج بش نے #عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر اپنے #اتحادیوں کی مدد سے اس کے خلاف جنگ چھیڑ دی، جس سے افغانستان کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا۔
تجزیہ کار مائیکل اوہنلن کہتے ہیں کہ 2001 کے موسم سرما میں #امریکہ کو اپنے عوام کی جانب سے #طالبان کو سخت سزا دینے کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن عراق جنگ نے اس توجہ کو منقسم کر دیا۔



