ورلڈ ایکسپو 2030 کی حتمی بولی کا انتظار: سعودی عرب کیلئے یہ کتنی اہم ہو گی؟
ورلڈ ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے ریاض کی بولی عالمی توقعات پیدا کر رہی ہے
ریاض،23نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چند ہی دنوں کی بات ہے سعودی عرب کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ آیا اس نے ورلڈ ایکسپو کی میزبانی کے لیے جیتنے والی بولی حاصل کر لی ہے یا نہیں۔مملکت نے یکم اکتوبر 2030 سے 31 مارچ 2031 تک ریاض میں ورلڈ ایکسپو کی میزبانی کرنے کے لیے اپنی نظریں مرکوز کر رکھی ہیں جس کا مرکزی خیال ’تبدیلی کا دور: ایک دور اندیش کل کے لیے ایک ساتھ‘ کے گرد گھومتا ہے۔سعودی دارالحکومت کا نمائش کی میزبانی کے لیے دو دیگر امیدواروں کے ساتھ مقابلہ ہے۔ کوریا میں بوسان اور اٹلی میں روم۔ بولی جیت جانے کی صورت میں یہ اولین موقع ہو گا کہ سعودی عرب عالمی میلے کی میزبانی کرے گا۔ اس طرح یہ 2021-2022 میں ایکسپو 2020 کے میزبان دبئی کے بعد بین الاقوامی نمائش کا انعقاد کرنے والا جی سی سی کا صرف دوسرا ملک بن جائے گا۔ یہ شرقِ اوسط، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی نمائش تھی۔
2030 شو پیس کے لیے میزبان ملک کا انتخاب 28 نومبر کو تنظیم کی 173 ویں جنرل اسمبلی کے دوران بیورو انٹرنیشنل ڈیس ایکسپوزیشن (بی آئی ای) کے ممبر ممالک کے ذریعے کیا جائے گا۔ورلڈ ایکسپو 1851 میں لندن کی عظیم نمائش کے بعد سے 170 سالوں سے منعقد ہو رہی ہے اور اس کے بعد سے ٹیلی فون اور مائکروویو جیسی اختراعات کی نمائش کی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب بولی جیتتا ہے تو اس سے مملکت کے لیے سیاحت، کاروبار اور اختراع کے بے شمار امکانات روشن ہوں گے۔
سعودی عرب میں سیولز کے سربراہ رمزی درویش نے بتایا کہ ورلڈ ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے ریاض کی بولی عالمی توقعات پیدا کر رہی ہے۔درویش نے کہا کہتوژن 2030 کے ساتھ سعودی عرب کا مقصد تیل پر انحصار سے ہٹ کر سیاحت، تفریح اور مالیات جیسے شعبوں میں اپنی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔ گیگا پروجیکٹس جیسے مستقبل کے شہر اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے ریاض میٹرو تبدیلی کے لیے قوم کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اور ایکسپو کے میزبانی کے حقوق جیتنے سے سعودی عرب کی عالمی سطح پر پیشرفت کا اظہار ہوتا ہے اور اس سے ویژن 2040 کی بنیاد رکھی جائے گی۔
مملکت نے غیر تیل کے شعبوں سے چلنے والی جی ڈی پی نمو سے 2022 اور 2023 میں جی 20 ممالک میں سب سے زیادہ شرحِ نمو حاصل کی۔ ایکسپو بولی کے ساتھ ساتھ اس سے سعودی عرب کو تجارت، ثقافت، اختراعات اور سرمایہ کاری کے لیے ایک علاقائی اور بین الاقوامی مرکز کے طور پر پوزیشن ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا، ”اگر ریاض کی ایکسپو بولی کامیاب ہوتی ہے تو جی سی سی کے ایک متحد سیاحتی ویزے کے ساتھ یہ عالمی معیشت میں تبدیلی کا اشارہ ہو گا۔ 7.8 بلین ڈالر کا ایکسپو بجٹ اور توانائی، نقل و حمل، لاجسٹکس، صاف توانائی اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے 1 ٹریلین ڈالر کا عہد ریاض کے عزم کو مزید ظاہر کرتا ہے۔



