بین ریاستی خبریںسرورق

مدرسوں میں کتنے غیرمسلم بچے؟ہماچل سرکار سے رپورٹ طلب

کیا ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں بچے اب بھی مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں؟

شملہ ،22فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کیا ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں بچے اب بھی مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں؟ اور کیا ان مدارس میں غیر مسلم بچے دینی تعلیم لے رہے ہیں؟ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے ہماچل حکومت سے یہ سوال پوچھا ہے۔ ایسی ہی کچھ شکایات کمیشن کے نوٹس میں آئی ہیں، جس کے بعد کمیشن نے کہا ہے کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 28(3) کے تحت کسی بھی بچے کو سرپرست کی رضامندی کے بغیر مذہبی تعلیم نہیں دی جا سکتی۔اس سلسلے میں کمیشن کے چیئرپرسن پریانک قانون گو کی طرف سے ہماچل حکومت کے چیف سکریٹری کو ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس خط کے بعد اب ڈائریکٹر ایلیمنٹری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تمام اضلاع کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو ہدایات بھیجی ہیں کہ وہ بتائیں کہ کیا ان کے متعلقہ اضلاع کے مدارس میں غیر مسلم بچے بھی پڑھ رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ مدارس کی تین قسمیں ہیں۔ اس میں تسلیم شدہ مدرسہ، غیر تسلیم شدہ مدرسہ اور بغیر نقشہ کا مدرسہ شامل ہیں۔محکمہ ابتدائی تعلیم کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ چند اضلاع جیسے چمبہ اور سرمور ایسے معاملات کے لیے حساس ہو سکتے ہیں، لیکن پہلے فیلڈ سے رپورٹ کا انتظار ہے۔ کمیشن نے ہماچل حکومت سے اس سلسلے میں کاروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ محکمہ تعلیم کو ایسے مدارس سے بچوں کو نکال کر اسکولوں میں داخل کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی یہ جانکاری بھی دینی ہوگی کہ کیا یہ بچے ریاستی حکومت سے کوئی اسکالرشپ لے رہے ہیں یا نہیں؟محکمہ ابتدائی تعلیم نے تمام اضلاع کے لیے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ ابتدائی تعلیم کے ڈائریکٹر گھنشیام نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے موصولہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام اضلاع سے معلومات طلب کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں کی گئی کاروائی کی رپورٹ کمیشن کو پہنچائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button