لندن،18اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان پر #طالبان کے کنٹرول کے بعد بہت سارے اسلامی #انتہا پسند گروپوں کا بھی حوصلہ بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے انتہا پسندوں کے نئے اتحاد وجود میں آئیں گے اور حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد ہونے والے ہر ایک پیش رفت پر جہاں ایک طرف مغرب گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے وہیں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس)، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی تازہ ترین پیش رفت کا باریکی سے مشاہدہ کر رہی ہیں۔
برلن میں جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سلامتی امور میں محقق اور دہشت گردی امور کے ماہر گیڈو اسٹین برگ نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ توقع رکھنی چاہئے کہ نہ صرف آئی ایس بلکہ القاعدہ اور افغانستان اور پاکستان میں دیگر چھوٹے گروپ بھی مضبوط ہو جائیں گے۔اسٹین برگ کا تاہم خیال ہے کہ فی الوقت یہ کہنا تقریباً ناممکن ہے کہ طاقت میں اضافے کا اظہار سب سے پہلا کہاں ہو گا۔بلاشبہ کچھ علاقے ہیں جہاں جہادی پہلے سے ہی مضبوط ہیں، مثلاً افغانستان میں۔
انہوں نے کہا کہ بالخصوص آئی ایس کی افغانستان شاخ، جسے ولایت خراسان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ماضی میں اسے ختم کرنے کی طالبان کی کوششوں کے باوجود، اب آئی ایس کی ایک طاقت ور شاخ بن چکی ہے۔اسلامک اسٹیٹ جسے آئی ایس یا آئی ایس آئی ایس اور #داعش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور القاعدہ کے علاوہ مختلف دیگر بین الاقوامی #جہادی تنظیموں کا ماضی اور حال پیچیدہ ہے۔
اسٹین برگ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ایک طرف نام نہاد اسلامک #اسٹیٹ ہے جو افغانستا ن کے صوبوں میں، کوہ کاف علاقوں میں، افریقہ میں اور یمن میں موجود ہے۔ یہ آئی ایس نہ صرف القاعدہ بلکہ طالبان کے بھی خلاف ہے۔ اور یہ بنیادی اختلافات ہیں۔ اس لیے اگر طالبان افغانستان میں اسلامی امارات قائم کرتی ہے یا دوبارہ اسی طرز کی حکومت کو بحال کرتی ہے جس کا تجربہ ہمیں سن 1996سے سن 2001 کے درمیان ہو چکا ہے، توا س کا مطلب یہ قطعی نہیں ہو گا کہ آئی ایس بھی خود بخود مضبوط ہوجائے گی۔
اسٹین برگ تاہم کہتے ہیں کہ اس کے باوجود طالبان کی کامیابی سے دنیا بھر میں جہادیوں، سلفیوں اور اسلام پسندوں کا حوصلہ بلند ہوگا اور اصل مسئلہ یہی ہے، انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ امریکیوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ طالبان نے اس چیز کو ثابت بھی کر دیا ہے۔انتہا پسندوں کے مزید مضبوط ہونے کا ایک اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے درمیان نئے اتحاد قائم ہوں گے۔
انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس اسٹڈیز کے یورپی مرکز میں دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے جاسم محمد کہتے ہیں،یمن میں مصالحت کو کوششیں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں، جس کے تحت القاعدہ اور آئی ایس نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔جاسم محمد کے مطابق افغانستان میں بھی طالبان اور القاعدہ کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے۔
بعض لوگ یہ سوچتے ہوں گے کہ اسامہ بن #لادن کی ہلاکت کے بعد یا گزشتہ دس برسوں کے دوران القاعدہ بہت زیادہ سرگرم نہیں رہا ہے لیکن دستاویزات اور تفتیش سے یہ بالکل واضح ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات اب بھی پوری طرح قائم ہیں اور القاعدہ طالبان کی مدد کر رہا ہے۔



