گوشہ خواتین و اطفال

باتوں سے خوشبو آئے – زبان کی مٹھاس کا اثر

  (✍️فہمیدہ تبسّم)

باتوں سے خوشبو آئے – زبان کی مٹھاس کا اثر

جی ہاں! اگر ہم اس مقولے پر عمل کریں تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ سوال یہ ہے کہ باتوں سے خوشبو کیسے آئے؟ یہ ایک آسان مگر بیک وقت مشکل کام بھی ہے۔ ہمارا دین بھی آسان اور مشکل دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یعنی عمل میں آسانی ہے اور لاپرواہی برتنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زبان کی حفاظت اور اسلامی تعلیمات

حدیث شریف میں ہے کہ "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان کے اچھے استعمال سے دوسروں کے دلوں میں جگہ بنائی جا سکتی ہے، جبکہ اس کا غلط استعمال انسان کو تنہا کر دیتا ہے۔ زبان ہی ہماری بہترین دوست بھی ہے اور بدترین دشمن بھی۔

علم، عمل اور گفتگو کی شائستگی

علم کے ساتھ عمل اور دولت کے ساتھ شرافت ضروری ہے، ورنہ شخصیت بیکار ہو جاتی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، فضول گفتگو سے پرہیز کریں اور خاموشی کو بہتر سمجھیں کیونکہ خاموشی بھی عبادت کا ایک حصہ ہے۔ محبت اور نفرت کا تعلق انسان کے رویے پر ہوتا ہے۔ جس طرح پھولوں سے ہر کوئی محبت کرتا ہے اور کانٹوں سے دور بھاگتا ہے، ویسے ہی ہمیں اپنی زبان کو ایک خوشبودار پھول کی طرح استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہر کوئی ہمیں یاد کرے۔

رشتوں میں استحکام اور نرم گفتاری

ہمیں دوسروں سے ایسے جُڑنا چاہیے کہ ہماری یادیں لوگوں کے دلوں میں مہک بن کر ہمیشہ زندہ رہیں، نہ کہ ہمارے سخت الفاظ رشتوں میں دوریاں پیدا کر دیں۔ اس کے لیے زبان پر قابو رکھنا ضروری ہے۔ نرم گفتاری کو اپنانا چاہیے کیونکہ سخت کلامی تعلقات میں تلخی پیدا کر دیتی ہے۔ جلد بازی میں ادا کیے گئے الفاظ تیر کی طرح ہوتے ہیں جو سیدھا دل پر لگتے ہیں، اور یاد رہے کہ تیر کمان سے نکلنے کے بعد واپس نہیں آ سکتا۔

مثبت سوچ اور غلط فہمیوں سے بچاؤ

کسی بھی بات کو کہنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ ہر رشتہ ہر بات کو قبول نہیں کرتا، اس لیے مذاق بھی ایک حد میں رہ کر کریں کیونکہ بعض اوقات غیر ضروری مذاق بدزبانی کا سبب بن جاتا ہے۔

عزت دینا اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا

اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی برتیں تاکہ وہ آپ کو ایک خوشبو دار پھول کی طرح یاد رکھیں۔ دوسروں کی تذلیل کرنے کی عادت کو ترک کریں اور اگر کوئی غلط بات کرے تو اسے دل میں رکھنے کے بجائے معاف کر دیں۔ ہمارا مذہب ہمیں دوسروں کو عزت دینے کا درس دیتا ہے، نہ کہ ذلت پہنچانے کا۔ اگر کبھی غلط الفاظ زبان سے نکل جائیں تو فوراً معذرت کر لیں۔

 گفتگو میں خوشبو کیسے شامل کریں؟

اگر ہم ان اصولوں کو اپنائیں تو ہماری باتوں سے واقعی خوشبو آ سکتی ہے۔ نرم گفتاری، صبر، مثبت رویہ، اور دوسروں کی عزت کرنے کی عادت سے ہم اپنی زبان کو دوسروں کے لیے باعثِ سکون بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button