حرم نبوی کے قالینوں کی اسمارٹ ٹکنالوجی کے ذریعے خصوصی دیکھ بھال کیسے کی جاتی؟
خادم حرمین شریفین کی حکومت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی توجہ دیتی ہے
ریاض،2اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب میں خادم حرمین شریفین کی حکومت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی توجہ دیتی ہے۔ مسجد میں پوری احتیاط کے ساتھ نمازیوں اور زائرین کی خدمت کی جاتی۔ اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ آنے والوں کو پرسکون انداز میں عبادات کا موقع ملے اور اس دوران تمام ضروری اسباب مہیا کیے جائیں۔’’ایجنسی برائے امور مسجد نبوی‘‘ نے اس حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے قالینوں کی دیکھ بھال کا بھی خصوصی انتظام کیا ہے۔ مسجد میں بچھائے گئے قالینوں کی صفائی، انہیں جراثیم سے پاک کرنے اور خوشبو سے مہکانے کا عمل لگاتار چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے۔ اس کا مقصد اس عظیم الشان مسجد میں رکوع اور سجدہ کرنے والوں کو راحت پہنچانا ہے۔مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قالین اپنی موٹائی اور پائیداری میں منفرد ہیں۔ ساتھ ہی ان کی ساخت کی کثافت اور ان کے مستحکم رنگ ایسے ہیں جو بکثرت دھونے سے متاثر نہیں ہوتے۔
یہ قالین انسانی وزن کو برداشت کرنے بڑی اہلیت رکھتے ہیں اور مسجد نبوی کے حسن و جمال میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔’صدارت عامہ برائے امور مسجد حرام و مسجد نبو ی کی جانب قالینوں کی نگرانی اور دیکھ بھال پر نظر دوڑائیں تو اس حوالے سے بہترین مثال سامنے آتی ہے۔مسجد نبوی کے ہر قالین پر ایک الیکٹرانک چپ لگی ہوئی ہے۔ اس چپ کو ’’RFID‘‘ کے ذریعے پڑھا جاتا ہے۔ یہ چپ ایک الیکٹرانک سسٹم سے منسلک ہے۔ قالین کی تیاری سے لے کر اس سے متعلق اب تک کا سارا ریکارڈ اس چپ کے ذریعہ ہمہ وقت دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل کوڈنگ بار کوڈ میں اس کے ڈیٹا کو پڑھ کر قالین کی تفصیلات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
قالین کا استعمال، اس کا محل وقوع، قالین کو دھونے کے اوقات، مسجد نبوی کے اندرونی حصے اور صحنوں کے اندر اس قالین کی ساری نقل و حرکت اس چپ کے ذریعہ نوٹ کی جا رہی ہوتی ہے۔مسجد نبوی، اس کی چھت اور صحن میں 35 ہزار سے زائد قالین بچھائے گئے ہیں۔ ہر قالین کو دن میں تین مرتبہ جھاڑا جاتا ہے۔ ان قالینوں کی صفائی کے لیے روزانہ 1600 لٹر سے زیادہ جراثیم سے پاک کرنے والا مواد استعمال کیا جاتا۔ قالینوں کو روزانہ 200 لٹر خوشبو سے مہکایا جاتا۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بچھائے گئے قالینوں میں سے ہر روز 150 قالینوں کو دھویا جاتا ہے۔



