نظامِ شمسی کیسے قائم ہوا؟ ناسا کی ایک دہائی طویل تحقیق کا مشن سیارہ مشتری روانہ
نیویارک، 17اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے خلائی ادارے ‘ناسا‘ نے خلائی جستجو میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سیارہ مشتری کے سیارچوں کی تحقیق کے لیے ایک مشن روانہ کیا ہے۔یہ خلائی جہاز جس کا نام ’لوسی‘ ہے ہفتے کو ناسا کے فلوریڈا میں واقع کیپ کناویرال اسٹیشن سے روانہ ہوا ہے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
اس خلائی جہاز کا مشن 12 برس طویل ہو گا اور یہ اپنے مشن کے دوران چھ ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا۔لوسی کا مقصد سیارہ مشتری کے ٹروجن کہلائے جانے والے سیارچوں میں سے سات کے قریب اڑان بھرنا ہے۔ مشتری کے مدار میں ہزاروں سیارچے زیرِ گردش ہیں۔ان سیارچوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نظام شمسی کی ابتدا سے موجود ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ وہ ان کے ذریعے نظام شمسی کے ارتقا سے متعلق اہم معلومات حاصل کر سکیں گے۔
اس مشن میں کام کرنے والے سائنس دان ٹام اسٹیٹلر نے آگاہ کیا کہ یہ سیارچے نظام شمسی کے قائم ہونے کے عمل کے دوران مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون جیسے بڑے سیاروں کا باقی ماندہ حصہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ باقی نظامِ شمسی، جس میں زمین بھی شامل ہے، اس دوران بڑے سیاروں کے وجود میں آنے سے بڑی حد تک متاثر ہوا۔
ان کے مطابق یہ ٹروجن سیارچے اس زمانے سے متعلق اہم معلومات رکھتے ہیں۔ناسا کی سائنس دان کارلی ہاوٹ نے ’ناسا ٹی وی‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ یہ ٹروجن سیارچے مشتری کے مدار میں کیسے شامل ہوئے۔ اس بارے میں دو نظریات ہیں۔ ایک یہ نظریہ ہے کہ یہ نظامِ شمسی میں بہت دور قائم ہوئے اور پھر دوسرے سیارچوں سے ٹکرا کر سورج کے قریب آئے اور ایسے ہی مشتری کے مدار میں شامل ہوئے۔
ان کے مطابق دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ مشتری کے قریب ہی قائم ہوئے تھے اور ان میں ویسی ہی معدنیات پائی جاتی ہیں جیسی مشتری کے مختلف چاند اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔



