امرت پال کے علاوہ دیگر افراد کو کس طرح گرفتار کر لیا گیا؟ ہائی کورٹ کا سوال
امرت پال کے علاوہ بقیہ تمام ملزمان کو کس طرح گرفتار کر لیا گیا۔
چنڈی گڑھ، 21مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے منگل کے روز ریاستی حکومت سے پوچھا کہ امرت پال کے علاوہ بقیہ تمام ملزمان کو کس طرح گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے کہا، اگر وہ بچ کر نکل گیا ہے تو یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ ہائی کورٹ نے وارث پنجاب دے کے قانونی صلاح کار کی جانب سے دائر ہیبیس کارپس کی عرضی پر سماعت جاری رکھی۔ اس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے وہ استغاثہ کو ہدایت دے کہ مفرور خود ساختہ سکھ مبلغ کو پیش کیا جائے۔جسٹس این ایس شیخاوت نے ایڈوکیٹ جنرل ونود گھئی سے پوچھا کہ وہ (امرت پال سنگھ) کیسے بچ گیا؟
اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اس کیس میں دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ بنچ نے پوچھا کہ امرت پال سنگھ کے علاوہ باقی سب کو کیسے گرفتار کیا گیا؟ بنچ نے کہا، آپ کے پاس 80 ہزار پولیس اہلکار ہیں۔ اسے گرفتار کیسے نہیں کیا گیا؟ اگر وہ بچ گیا تو یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ جی 20 سربراہی اجلاس بھی جاری تھا۔ہائی کورٹ نے اس معاملے میں وکیل تنو بیدی کو ایمیکس کیوری مقرر کیا اور سماعت چار دن کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے حکومت سے اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کر لی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ امرت پال سنگھ کے خلاف این ایس اے کی درخواست کی گئی ہے۔



