فرد جرم کے لیے سابق صدر ٹرمپ کو عدالت میں کیسے پیش کیا جائے گا؟
ٹرمپ کو ہتھکڑی لگائے جانے کی تو توقع نہیں ہے
نیویارک،یکم اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ٹرمپ کے اٹارنی جو ٹیکوپینا نے جمعے کے روز ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگلے ہفتے جب ٹرمپ عدالت کے سامنے پیش ہوں گے تو ڈسٹرکٹ اٹارنی اور ٹرمپ کے وکلا صفائی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت انہیں ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی۔ٹرمپ پر نیویارک کی ایک گرینڈ جیوری نے جمعرات کو فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خبررساں کے مطابق نیویارک میں کسی شخص کو فوجداری الزامات کا جواب دینے کے لیے عدالت میں پیش کرنے کا مطلب یہ ہے اس کی انگلیوں کے نشانات لیے جاتے ہیں۔تصویر کھینچی جاتی ہے اور بنیادی نوعیت کے سوالات پوچھے جاتے ہیں جیسا کہ نام اور تاریخ پیدائش اور مقدمے سے متعلق کچھ سوال۔ اس عمل کے دوران مذکورہ شخص کو عموماً کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اور بہت کچھ مقدمے کی اہمیت پر بھی منحصر ہوتا ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص خود کو پیش کرنے کے لیے کیا بندوبست کرتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی خفیہ سروس کے پاس اس سلسلے میں سابق صدر کے تحفظ کے متعلق کوئی ’پلے بک‘ نہیں ہے۔ خفیہ سروس کے ایجنٹوں کو سابق صدور کی سکیورٹی کاکام سونپا جاتا ہے تاوقتیکہ وہ خود انکار نہ کریں۔ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے ، خفیہ سروس کے ایجنٹوں کو ہر وقت ان کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سابق صدر کو جس مقدمے کا سامنا ہے اس میں ان پر الزام ہے کہ 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل انہوں نے ایک اسکینڈل سے بچنے کے لیے پورن اسٹار اسٹارمی ڈینیئلز کو خفیہ طور پر رقم ادا کی تھی تاکہ وہ چپ رہے۔اسٹارمی ڈینیئلز کا اصل نام اسٹیفنی کلفرڈ ہے۔ وہ پورن انڈسٹری میں دو دہائیوں سے کام کرنے والی اداکارہ ہیں۔ وہ پورن فلموں کی ہدایت کاری بھی کر چکی ہیں۔ٹرمپ کی ایک اور اٹارنی سوسن نیچ لیس نے کہا کہ سابق صدر اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔ٹیکوپینا نے کہا،کہ ٹرمپ کو ہتھکڑی لگائے جانے کی تو توقع نہیں ہے ، لیکن امکان ہے کہ منگل کو عدالت میں جاتے وقت ان کی انگلیوں کے نشانات لیے جائیں گے اور دوسری معمول کی کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ پر فرد جرم پر ردعمل، امریکی سیاست میں تفریق کا عکاس
نیویارک،یکم اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سابق امریکی صدر ٹرمپ پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد منقسم امریکی سیاست میں دونوں پارٹیوں کی جانب سے سامنے آنے والا ردِ عمل متوقع تھا۔ ان کے ریپبلکنز رفقا نے پراسیکیوٹر پریہ دعویٰ کرتے ہوئے تنقید کی کہ اس کی وجہ خالصتاًدو جماعتی سیاست تھی، جب کہ ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ریپبلکن پارٹی کیایسے ارکان بھی ٹرمپ کے دفاع میں سامنے آئے ہیں جو 2024 کی دوڑ میں صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف مقابلے نظریں جمائے ہوئے ہیں۔فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس نے، جنہوں نے 2024 کے صدارتی مقابلے میں حصہ لینے کا اعلان تو نہیں کیا ہے لیکن قومی سطح پر نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں، ٹوئٹر پر نیویارک کے ڈیموکریٹ پراسیکیوٹر ایلون بریگ، پر الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے قانونی نظام کو ستعمال کر رہے ہیں۔فلوریڈا کے ریپبلیکنز گورنر ڈی سینٹیس نے کہا کہ وہ سابق صدر کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے فلوریڈا سے نیویارک کے عہدے داروں کی تحویل میں دینے کے لیے ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل نے کہا ہے کہ سابق صدر خود کو تحویل میں دینے کے لیے نیویارک جائیں گے۔ٹرمپ کے عہد صدارت میں ا قوام متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے،جنہوں نے 2024 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، فرد جرم کے بارے میں کہا کہ یہ انصاف سے زیادہ انتقام لگتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے دوران وزیر خارجہ کے عہدہ پر فائز رہنے والیمائیک پومپیو نے جو ایک اور ممکنہ صدارتی امیدوار ہیں، استغاثہ پر’سیاسی کھیل‘ کھیلنے کا الزام لگایا۔2024 کے انتخابات کے ایک اور ممکنہ امیدوار، جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن سینیٹر ٹم سکاٹ نے ایک بیان میں کہا کہ جرائم پیشہ نیو یارک ڈی اے پرتشدد مجرموں کے لیے قانون کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، پھر بھی سیاسی دشمنوں کے خلاف قانون کو ہتھیار بنایا ہے۔
یہ ایک دھوکا ہے، اور دنیا کے سب سے عظیم ملک میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ایوانِ نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے ٹوئٹر پرکہاکہ گرینڈ جیوری نے حقائق اور قانون کے مطابق کام کیا ہے۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور ہر ایک کو (اپنی)بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ سابق صدر پرامن طریقے سے اس نظام کا احترام کریں گے جو انہیں یہ حق دیتا ہے۔سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، ایک بیان میں کہاکہ ہر امریکی کی طرح مسٹرٹرمپ بھی انہی قوانین کے تابع ہیں۔ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے وہ ،سیاست سے نہیں (بلکہ)حقائق اور قانون کے مطابق ایک قانونی نظام اور ایک جیوری سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔انہوں نے مزیڈ کہا کہ کیس میں کوئی بیرونی سیاسی اثر و رسوخ، دھمکی یا مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ میں مسٹر ٹرمپ کے ناقدین اور حامیوں دونوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اس عمل کو پرامن اور قانون کے مطابق آگے بڑھنے دیں۔



