بین الاقوامی خبریں

ہنگری: ہم جنس پرستی سے متعلق مواد پر پابندی، ادیب اور کتب فروش کااحتجاج

بڈاپسٹ ؍لندن ، 19جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یورپی ملک #ہنگری میں بچوں کی کتابوں کے حوالے سے نئے قانون کے نفاذ کے بعد #کتابیں فروخت کرنے کی کئی دکانوں کے باہر ایسے سائن بورڈز آویزاں ہیں جن پر درج ہے کہ ان دکانوں پر غیر روایتی مواد #فروخت کیا جاتا ہے۔نئے قانون کے تحت بچوں کی کتابوں میں ایسے تمام مواد پر پابندی عائد کی گئی ہے جس میں ہم جنس پرستی، جنسی تبدیلی یا منتقلی کی #تشہیر یا عکاسی کی گئی ہو۔

#امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق کئی ادیبوں، کتب فروشوں اور پبلشرز نے اسے آزادیٔ اظہار پر قدغن قرار دیا ہے۔ہنگری کے دارالحکومت #بڈاپسٹ میں حکومت نے ملک کی دوسری بڑی کتب فروش کمپنی کو بچوں کی ایک ایسی کتاب اسٹور میں رکھنے پر جرمانہ عائد کیا جس میں ہم جنس والدین کا ذکر موجود تھا۔اس واقعے کے بعد سے لیرا کونو نامی اس کمپنی نے اپنے تمام اسٹورز پر صارفین کے لیے اطلاعاتی سائن بورڈز لگا دیے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہنگری (Hungarian) کی پارلیمان سے پاس ہونے والے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کمپنی کے کریئیٹو ڈائریکٹر کرسٹین نیاری نے بتایا کہ حکومتی حکم نامے میں استعمال کیا گیا لفظ عکاسی اتنا عمومی ہے کہ یہ معروف انگلش شاعروں شیکسپئر اور سافو کی نظموں پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ہنگری میں یہ نیا قانون پچھلے ہفتے ہی نافذ کیا گیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس بارے میں کسی قسم کی رہنمائی فراہم نہیں کی گئی ہے کہ آیا یہ قانون کن افراد یا کاروبار پر لاگو ہوگا اور اس کے نفاذ کا طریقہ کار کیا ہوگا۔اس قانون کے تحت اسکولوں کے تعلیمی پروگرامز میں بھی ہر قسم کے ایل جی بی ٹی یعنی زنانہ یا مردانہ ہم جنس پرستی، کثیر الجنسی اور مخنث افراد سے متعلق مواد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس قانون نے ہنگری کے ادبی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ وہ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اگر مستقبل میں بچوں کے پاس ایسی کوئی تحریر یا کتاب نکل آئی جن میں جنسی رجحانات یا شناخت کے بارے میں کوئی ذکر ہوا تو کیا وہ کسی جرم کے مرتکب قرار پائیں گے؟۔

ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے اصول بچوں کی حفاظت کے لیے پہلے سے بنائے گئے قوانین کا حصہ ہیں۔ جس کے تحت بچوں کے ساتھ جنسی رغبت یعنی پیڈوفیلیا کی سزا بھی مزید سخت کی گئی ہے۔حکومت نے جنسی مجرموں کا پتہ لگانے کے لیے ڈیٹا بیس بھی تیار کیا ہے جس تک عوام کی رسائی ہوگی۔

مبینہ طور پر ایل جی بی ٹی مخالف قوانین (prohibits LGBT content) اور دیگر دوسرے اقدامات کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔مگر ناقدین کا جن میں یورپی یونین کے حکام بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اس طرح ہنگری کی حکومت ایل جی بی ٹی افراد کے ساتھ پیڈوفائلز جیسا ہی سلوک کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button