گوشہ خواتین و اطفال

شوہر بیوی خوشگوار زندگی کیلئے ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو در گزر کریں

مختلف احادیث اس طرف بحسن وخوبی اشارہ کرتی ہیں چنانچہ مفہوم حدیث ہے کہ عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے

حافظ محمد الیاس

خاندان مرد اور عورت کے نکاح کے ذریعے وجود میں آتا ہے،جسے شوہر اور بیوی کا نام دیا گیا۔اس کی بنیاد محبت پر ہوا کرتی ہے ۔اسلام زوجین کے درمیان محبت و شفقت ،احترام و ہمدردی اور ایثار واعتماد کا رشتہ قائم کرتا ہے۔اس لئے اس نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا حریف نہیں ،بلکہ معاون و مددگار قرار دیا اور اسے لباس سے تعبیر کیا۔لہذاجس طرح لباس جسم کے داغ دھبوں کو چھپادیتا ہے اسی طرح میاں بیوی کو ایک دوسرے کی کمی کوتاہی کو درگزر کردینا چاہیےاور دوسروں سے شکایت ہرگز نہیں کرنا چاہیے اسلام نےمیاں بیوی کی سرگرمیوں کے دائرے متعین کردیے ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک کا مخصوص کردار اور دائرہ مکمل ہے،جس میں رہ کر کام کرنا ہے اور ہر ایک سے اس کے تعلق سے سوال کیا جائے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کا ارشاد گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر شخص سے اس کے متعلقین اور ماتحت لوگوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔حاکم اپنی رعیت کے حوالے سے ذمہ دار ہے ،مرداپنے گھر والوں کے متعلق ذمہ دار ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اپنے بچوں کی ذمہ دار ہے تم میں سے ہرشخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں بیوی ،بچوں کی کفالت اور تعلیم وتربیت کا ذمہ دار مرد ہے اور بیوی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کرے اور ان کی بہترین تعلیم وتربیت کا اہتمام وانتظام کرے اور گھر کو خوش اسلوبی سے سنبھالےحقیقت یہ ہے کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے میاں اور بیوی دونوں کو ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

اللہ تعالی نے عورت کو بلند مقام ومرتبہ عطا فرمایا اور شوہر کو حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ انصاف سے کام لے، اس کا احترام و اکرام کرے اور اچھے سلوک سے پیش آئے ،خواہ وہ اسےناپسند کرتا ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے جس کا مفہوم ہے "اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو،اگر وہ ناپسند ہوتو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو، مگر اللہ تعالی نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عورت کے بارے میں خیر کی وصیت کی ہےمختلف احادیث اس طرف بحسن وخوبی اشارہ کرتی ہیں چنانچہ مفہوم حدیث ہے کہ عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اوپر کاہے، اگر اسے سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اگر چھوڑے رہو گے تو ٹیڑھی ہی رہےگی پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“عورت شوہر کی خواہش و مرضی کے مطابق ہمیشہ ایک حال پر قائم نہیں رہ سکتی ،اس لیے شوہر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بیوی اس کی فطرت ، عادت اور مزاج میں سے ہےاس لئے وہ اس پر اپنی مرضی کے مطابق زیادہ سختی نہ کرے، بلکہ اس کے نسوانی مزاج کا خیال رکھتے ہوئے اس کی لغزشوں ،کوتاہیوں اور غلطیوں سے درگزر اور چشم پوشی سے کام لے ۔

عورت سے حسن سلوک کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر خیال تھا، اس کا انداز و اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی اس کا خیال رکھا اور فرمایا: ”لوگو! سنو! عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آؤ تمہیں ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرنے کا کوئی حق نہیں ،سوائے اس صورت کے جب ان کی طرف سے کوئی کھلی ہوئی نافرمانی سامنے آئے اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو پھر خواب گاہوں میں ان سے علیحد ہ رہو اور انہیں مارو تو ایسا نہ مارنا کہ کوئی شدید چوٹ آئے اور پھر جب وہ تمہارے کہنے پر چلنے لگیں تو انہیں خواہ مخواد ستانے کے بہانے نہ ڈھونڈو۔اسلام نے مسلمانوں کواپنی بیویوں کے ساتھ محبت اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تعلیم دی ہےاس کی ایک شکل یہ بھی ہے وہ جب گھروں میں داخل ہوں تو سلام کیا کریں ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے اہل خانہ کو سلام کیا کرو، یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لئے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button