تلنگانہ کی خبریں

حیدرآباد انکاؤنٹر:سپریم کورٹ نے انکوائری کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے دیا مزید6 ماہ کاوقت

حیدرآباد انکاؤنٹر:سپریم کورٹ نے انکوائری کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے دیا مزید6 ماہ کاوقت


حیدرآباد : (اردودنیا.اِن) حیدرآباد میں ایک ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے 4 ملزمان کے تصادم میںموت کے حالات کے بارے میں حتمی رپورٹ داخل کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے سابق جج سرپورکر کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیشن کوسپریم کورٹ جمعہ کو 6ماہ کا مزید وقت دیا ہے۔

کمیشن میں شامل دیگر ممبران بمبئی ہائی کورٹ کی سابق جج ریکھا سوندور بلدوتا اور سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ڈی آر کارتکیان ہیں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رم سبرامنیم کی بنچ نے کہاکہ ہم اس میں مزید 6 ماہ کی توسیع کررہے ہیں۔

بنچ نے کمیشن کی جانب سے اس معاملے میں رپورٹ داخل کرنے کے لئے مزید کچھ وقت طلب کرنے کی درخواست پر غور کیا۔ 12 دسمبر 2019 کو کمیشن کے تشکیل کے بعد دوسری بار عدالت عظمی نے حتمی رپورٹ داخل کرنے کے لئے اسے مزید 6 ماہ کا وقت دیا ہے۔ عدالت عظمی نے حتمی رپورٹ داخل کرنے کے لئے کمیشن کو 24 جولائی 2020 کو 6 ماہ کی توسیع کو منظوری دے دی۔

12 دسمبر 2019 کو انکاؤنٹر کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے عدالت عظمی نے سپریم کورٹ کے سابق جج وی ایس سرپورکر کی صدارت میں تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔ چاروں ملزمان کو حیدرآباد کے قریب قومی شاہراہ نمبر 44 پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیاتھا۔ اس شاہراہ پر 27 سالہ جانوروں کی ڈاکٹرکی جلی ہوئی لاش ملی تھی۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 27 نومبر 2019 کو اس خاتون ڈاکٹر کو اغوا کرکے جنسی زیادتی کی گئی تھی اور بعد میں اسے قتل کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملزمین نے خاتون کی لاش کو جلادیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دائر دو الگ درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ انکاؤنٹر فرضی تھا اور واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button