شہری علاقوں میں تدفین کا سنگین بحران: قبرستانوں میں جگہ کی کمی اور بھاری فیس کا مسئلہ
قبرستانوں میں جگہ کی قلت، لاکھوں روپے کی فیس
حیدرآباد: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شہری علاقوں میں مسلمانوں کی تجہیز و تکفین کا مسئلہ دن بہ دن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں موجود قبرستانوں میں جگہ کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ تدفین کے لیے بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر، وقف بورڈ کی جانب سے قبرستان کے طور پر درج شدہ کئی اراضیات پر بھی تدفین کے سلسلے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
قبرستانوں میں جگہ کی قلت، لاکھوں روپے کی فیس
شہر حیدرآباد کے مرکزی علاقوں میں قبرستانوں میں جگہ تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور جو جگہیں دستیاب ہیں وہاں تدفین کے اخراجات لاکھوں روپے تک جا پہنچے ہیں۔ کئی مسلم بستیوں میں موجود قبرستانوں میں نئی تدفین پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کئی اوقافی اراضیات جو قبرستانوں کے لیے مخصوص ہیں، ان پر غیر قانونی قبضوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔
تلنگانہ حکومت کی اراضی مختص کرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں
تلنگانہ حکومت نے 2023 میں ریاست بھر میں مسلمانوں کی تجہیز و تکفین کے لیے 125 ایکڑ اراضی مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ رنگا ریڈی ضلع میں 72.22 ایکڑ اور میڑچل-ملکا جگری کے علاقے میں 58.18 ایکڑ اراضی قبرستانوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔ تاہم، اب تک اس اراضی کا موثر استعمال نہیں کیا جا سکا، اور شہری حدود میں تدفین کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔
شہری قبرستانوں پر ناجائز قبضے اور اعتراضات
حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف قبرستانوں، آستانوں، درگاہوں اور بارگاہوں سے متصل قبرستانوں میں بھی جگہ کی شدید قلت ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ وقف املاک کے ہوتے ہوئے بھی تدفین کے لیے جگہ میسر نہیں۔ مضافاتی علاقوں میں نئی جگہ تلاش کرنے کی کوششیں بھی بے سود ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ زمین کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، اور چند افراد اپنی ذاتی و خاندانی قبرستان کے لیے زمین خریدنے میں مصروف ہیں۔
عوامی مطالبہ: حکومت اور وقف بورڈ فوری اقدامات کریں
شہری حدود میں تجہیز و تکفین کے اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے عوامی سطح پر مسلسل نمائندگیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، اب تک کوئی موثر حل سامنے نہیں آیا۔ اوقافی اراضیات جو قبرستان کے لیے مختص ہیں، ان پر قبضوں کو فوری روکا جائے اور تدفین پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں۔ حکومت تلنگانہ اور وقف بورڈ کو فوری طور پر اس معاملے میں عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اس اہم مسئلے سے نجات مل سکے۔



