حیدرآباد میں سروگیسی ریکیٹ بے نقاب: نومولود 90 ہزار میں خریدا، 35 لاکھ میں آئی وی ایف بچہ کہہ کر فروخت
حیدرآباد میں جعلی سروگیسی اسکینڈل سے تہلکہ
جوڑے کو معلوم ہوا سروگیٹ بچہ ان سے حیاتیاتی طور پر منسلک نہیں،ڈاکٹر سمیت 8 افراد گرفتار
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سکندرآباد کے یونیورسل سروشٹی فرٹیلیٹی سینٹر میں ایک چونکا دینے والا سروگیسی ریکیٹ بے نقاب ہوا ہے، جہاں غریب خاندان سے 90 ہزار روپے میں نومولود بچہ خرید کر اسے آئی وی ایف کے ذریعہ پیدا شدہ کہہ کر ایک بے اولاد جوڑے کو 35 لاکھ روپے میں فروخت کردیا گیا۔
اتوار کو حیدرآباد پولیس نے ڈاکٹر اَتھلوری نمرتا (عمر 64 سال)، ڈاکٹر نارگولا سدانندم (41) سمیت 8 افراد کو گرفتار کیا۔ ان پر سروگیسی کے نام پر دھوکہ دہی، جعلی کاغذات تیار کرنے، اور غیر قانونی طور پر بچوں کی خرید و فروخت جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔
متاثرہ جوڑا اگست 2024 میں راجستھان سے علاج کے لیے آیا تھا۔ ڈاکٹر نمرتا نے مشورہ دیا کہ وہ سروگیسی اپنائیں۔ انھیں یقین دلایا گیا کہ بچہ انہی کا ہوگا اور ان کا ایمبریو منتقل کیا جائے گا۔ نو ماہ کے دوران جوڑے نے قسطوں میں 35 لاکھ روپے دیے۔
جون 2025 میں انھیں بتایا گیا کہ ویزاگ (وشاکھاپٹنم) میں بچہ پیدا ہوچکا ہے اور اضافی 2 لاکھ روپے بطور ڈلیوری چارجز بھی لیے گئے۔ بعد ازاں، انھیں جو بچہ دیا گیا، اس کے جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیے گئے۔
شک ہونے پر متاثرہ جوڑے نے دہلی کے وسنت کنج میں ڈی این اے ٹیسٹ کروایا، جس میں ثابت ہوا کہ بچہ نہ تو ماں سے جڑا ہے، نہ ہی باپ سے۔ جب جوڑے نے ڈاکٹر نمرتا سے وضاحت مانگی تو ان کے نمبرز بلاک کر دیے گئے اور بعد میں دھمکیاں دی گئیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر نمرتا اور ان کے معاونین غریب عورتوں سے بچے خرید کر سروگیسی کا ڈرامہ رچاتے تھے۔ اس کیس میں نومولود بچہ ایک غریب جوڑے – محمد علی عادل (38) اور نسرین بیگم (25) – سے 90 ہزار روپے میں خریدا گیا، جنھیں ویزاگ میں ڈلیوری کے لیے بھیجا گیا تھا۔
ڈاکٹر نمرتا حیدرآباد، وشاکھاپٹنم، وجئے واڑا اور کونڈاپور میں غیر قانونی طور پر کلینکس چلا رہی تھیں۔ ان تمام مراکز پر اتوار کو چھاپے مارے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ 2021 میں سروشتی سینٹر کا لائسنس منسوخ کیا جا چکا تھا، لیکن وہ غیر قانونی طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھیں۔
ڈاکٹر نمرتا کے خلاف 2016 اور 2020 میں بھی مقدمات درج ہوئے تھے۔ 2016 میں ایک این آر آئی جوڑے نے الزام لگایا تھا کہ انہیں جو بچہ دیا گیا وہ ان کا حیاتیاتی بچہ نہیں تھا۔ 2020 میں ویزاگ پولیس نے انہیں نومولود بچوں کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
حالیہ چھاپے میں کلینک سے جنسی شناخت کے آلات، نائٹرس آکسائیڈ، اور دیگر ممنوعہ آلات برآمد کیے گئے۔ ڈی ایم ایچ او ڈاکٹر وی نکتی نے بتایا کہ متعدد غیر مستند افراد IVF، ایم ٹی پی اور دیگر طریقوں سے علاج کر رہے تھے۔
پولیس نے ملزمان کو چنچل گوڑہ جیل میں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے، جبکہ وشاکھاپٹنم برانچ کی ملازمہ سی کلاینی کو حیدرآباد لایا جا رہا ہے۔



