ہائپر لوپ ٹرین،مستقبل کی تیز ترین ٹیکنالوجی-پیش کش: رافع عبدالحنان بنگلور
ہائپر لوپ سسٹم دراصل دنیا بھر میں کچھ ویکیوم ٹیوبوں کے نیٹ ورک پر مشتمل لائن ہے
اب ہائپر لوپ کی بدولت براعظموں کے درمیان 3 گھنٹے میں سفر کرنا ایک حقیقت ہوگی۔اس ٹیکنالوجی پر تیز رفتاری سے کام ہورہا ہے۔ اور آئندہ تیس سے چالیس سال بعد دنیا بھر کے مسافر اس تیز ترین ذریعہ سفر کا لطف اٹھائیں گے۔یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ایک براعظم کے میگا کاسموپولیٹن شہروں کو آپس میں جوڑے گی بلکہ اس سے بین براعظمی سفر کو بھی ممکن بنایا جائے گا، جس کے بعد ہندوستان سے امریکہ آپ صرف تین گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔ہائپر لوپ ٹرین سسٹم دراصل مسافروں اور سامان کی ٹرانسپورٹ دونوں کے لیے ایک مجوزہ تیز رفتار ترین ٹرانسپورٹیشن سسٹم ہے۔ یہ ایک ایسا ٹرین نما کیپسول ہے جو مسافروں اور کارگو کے لیے ہوگا، ایک انتہائی تیز رفتار ترین زمینی نقل و حمل کا نظام ہے –
جسے Teslaاور SpaceX کے سی ای او ایلون مسک Elon Musk نے چند سال قبل ایک تصور کے طور پر تجویز کیا تھا۔ ہائپر لوپ سسٹم دراصل دنیا بھر میں کچھ ویکیوم ٹیوبوں کے نیٹ ورک پر مشتمل لائن ہے جو نقل و حرکت کے مرکزوں کو جوڑتا ہے۔ یہ پوڈز ویکیوم میں انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرتے ہیں۔ایک کم دباؤ والا ماحول اورکم ایروڈینامک ڈریگ کی بدولت توانائی کے موثر آپریشن کے ذریعے پوڈز کے تیز ترین سفر کو ممکن اور یقینی بنائے گا۔
ہائپر لوپ سسٹم سیل شدہ اور جزوی طور پر و یکیوم ٹیوبوں پر مشتمل ہوگا، جو بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں نقل و حرکت کے مرکزوں کو جوڑے گا۔ ان ٹیوبز میں کچھ دباؤ والی گاڑیاں، جنہیں عام طور پر پوڈ کہا جاتا ہے، جو بہت زیادہ رفتار ی سے کانٹیکٹ لیس لیویٹیشن اور پروپلشن سسٹم (یا بغیر سطح کو چھوئے ہوا میں معلق سسٹم contactless levitation)کے ساتھ کم سے کم ایروڈینامک ڈریگ (ہوا کی رگڑ)کی بدولت ان ٹیوبز میں حرکت کر سکتی ہیں۔
ایلون مسک کی اس تجویز کردہ الٹرا ہائی اسپیڈ ریل (UHSR) ہائپر لوپ ٹیکنالوجی کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ دنیا کی تیز ترین وھیکل، چین کی تیز ترین بلٹ ٹرین سے بھی تیز رفتاری سے حرکت کرسکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ریل سروس کو 1,200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ممکنہ رفتار سے چلانے کے قابل بناتی ہے۔دنیا کی تیز ترین بلٹ ٹرین چین کی شنگھائی کی Maglev (Magnetic- Levitation) ہے جو صرف 460 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے ریلوے ٹریک پر بھاگ سکتی ہے۔ جبکہ ہوا میں اڑتے تیز ترین جدیدمسافر طیارے، ائیر بس A380کی اسپیڈ محض 1087 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس سے پہلے تیز ترین طیارہ کنکارڈ سپر سانک تھا جو مسافرو ں کو بھی لے کر جاتا تھا۔ اسکی اسپیڈ 2179 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ لیکن فی الوقت کچھ وجوہات کی بنیاد پر اسکو اب گراؤنڈ کردیا ہے اور دنیا بھر سے اسکے فلائٹ اپریشن معطل کردیئے گئے ہیں۔
کانٹیکٹ لیس میگنیٹک لیویٹیشن اور پروپلشن سسٹم ایک آرام دہ اور خاموش سفرکے تجربے کو لائے گا۔ Hyperloopرفتار اور لچک، آرام اور حفاظت کے ساتھ ساتھ پائیداری کے کلیدی فوائد کو یکجا کیا گیا ہے۔اب اس پراجیکٹ پر بھی کام ہورہا ہے کہ دو براعظموں کو ان ہائیپر لوپ ٹیوب کے ذریعے زیر آب رہتے ہوئے جوڑا جائے، جس سے بین براعظمی رابطہ بھی ممکن ہوجائے گا۔ دو شہروں کے درمیان 350 کلومیٹر کا سفر 30 منٹ میں کرنا اگلی دہائی میں ایک حقیقت بن سکتا ہے۔
ایک نقل و حمل کی نئی کمپنی ای موبیلٹی، eMobility نے،Expo World Congress 2023 اپنے پہلے ایڈیشن میں والنسیا (اسپین) میں منعقد ہوا ایک نیا آئیڈیا ہائپر لوپ ٹیکنالوجی میں پیش رفت، جدت اور پائیدار نقل و حرکت کے لیے واضح عزم کے ساتھ پیش کیا۔ ہائپر لوپ ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز کے سی ای او اینڈریس ڈی لیون Andrés de León نے کہا کہ ”ہائپر لوپ کے ذریعے ہم تمام براعظمی فاصلوں کو دو سے تین گھنٹے میں جوڑ سکتے ہیں”۔
عالمی سطح پر، ہائپر لوپ مارکیٹ پہلے ہی دنیا بھر میں پروجیکٹس میں 2بلین یورو سے زیادہ مالیت کی ہے اور اس کے 2040 تک بڑھ کر 800بلین یورو اور 2050 تک 2ٹریلین یورو تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔Zeleros کے سی ای او ڈیوڈ پسٹونی David Pistoni نے اپنا ٹرانسپورٹ سسٹم پیش کیا جو لوگوں اور سامان کو انتہائی تیز رفتار (1,000 کلومیٹر فی گھنٹہ) پر منتقل کرنے اور سفر کرنے کی سہولت دے گا۔ ہسپانوی کمپنی، جو لکیری موٹرز، ہو ا میں بلند ہونے والا سسٹم، اور ایروڈینامک پروپلشن جیسی ٹیکنالوجیز کو ملا کر پائیدار نقل و حرکت کے لیے ہائپر لوپ ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے، اس نظام کو قابل توسیع بنانے اور دیگر مارکیٹوں میں اسکے اطلاق کے مواقع کا پتہ لگانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے کہ کہاں کہاں یہ ٹیکنالوجی استعمال ہوسکتی ہے۔ڈیوڈ پسٹونی نے کہا کہ ہم نے اپنی پیش رفت کو دو پلیٹ فارمز میں تقسیم کیا ہے۔پروپلشن سسٹم اور مقناطیسی پلیٹ فارم۔
بندرگاہوں میں کارگو کی نقل و حرکت کو ڈ ی کاربونائز (بغیر کسی فیول کے استعمال سے)کرنے میں مدد کے لیے ہائپر لوپ ٹیکنالوجی میں شامل کرنے کے بہترین مواقع موجود ہیں۔درحقیقت، Hyperloop Transportation Technologies کے فراہم کردہ ڈیٹا میں بتایا گیا ہے کہ عالمی CO2کے 23% اخراج کے لیے ٹرانسپورٹ ذمہ دار ہے، اور فضائی آلودگی کی لاگت 54.1 ٹریلین ہے۔
آندرس ڈی لیون نے ایک نئے تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم کی تخلیق کی طرف اشارہ کیا جو لاگت سے زیادہ موثر، مضر صحت گیسوں کے اخراج سے پاک اور مسافروں کے لیے ایک ہموار اور آرام دہ تجربہ فراہم کرسکتا ہے۔ ڈی لیون نے یہ بھی کہا کہ حفاظت اور پائیداری ہائپر لوپ کے دو اہم عناصر ہوں گے۔پہلے منظر میں ہائپر لوپ کیپسول میں بنائے گئے ایک ذہین مستقل نگرانی کے سینسر کے ساتھ کام کرتا ہے اور دوسرے مرحلے میں انتہائی محفوظ غیر فعال مقناطیسی لیویٹیشن کے ساتھ اپنا ٹرانسپورٹ کا کام کرتا ہے۔
پائیداری کے لحاظ سے، نقل و حمل کے اس موڈ کو ‘ مجموعی صفر‘ کاربن اخراج سسٹم کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ہم سولر پینلز کو اوپر رکھ کر 15% زیادہ اس طرح توانائی پیدا کرتے ہیں جو ہم ہائپر لوپ کے کیپسولز میں استعمال کریں گے۔ فی الوقت یہ کمپنی جس کا دنیا بھر میں 800 شراکت داروں کا نیٹ ورک ہے، مسافر اور کارگو دونوں ایپلی کیشنز پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا ہم نے تولوز (Toulouse اسپین کا ایک شہر) میں پہلا مکمل پیمانے پر ہائپر لوپ ٹیسٹ سسٹم بنایا ہے، جس کا قطر 4 میٹر ہے، اور ہم نے پہلے فل اسکیل مسافر کیپسول بنائے ہیں۔ اب وہ کئی منصوبوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، ایک اٹلی کے شہر میں، اور ایک کینیڈا کی بندرگاہ میں اپنے کام کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اطالوی پروجیکٹ دنیا بھر میں ہائپر لوپ کے نفاذ کو تیزی سے پھیلائے گا اور ممکنہ طور پر 2026 اور 2028 کے درمیان یہ پروجیکٹ ایک حقیقت بن جائے گا۔



