بین الاقوامی خبریںسرورق

میں 35سال کی عمر تک شادی نہیں کرنا چاہتی تھی: ملالہ یوسف زئی

لندن ،12/نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حال ہی میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے والی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جب بھی ان سے شادی سے متعلق پوچھا گیا تو ان کے یہ الفاظ ہوتے تھے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی یا کم از کم اس وقت تک جب تک 35 برس کی نہیں ہو جاتی۔

ملالہ کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے خلاف نہیں لیکن وہ عملی طور پر اس رشتے کے حوالے سے کافی محتاط ہیں۔ملالہ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شادی کا اعلان کیا تھا۔

اب شادی کے بعد امریکی فیشن میگزین ووگ میں 11 نومبر کو ان کا پہلا انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے رشتہ ازدواج سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔انٹرویو میں ملالہ کا کہنا تھا کہ ان کا سوال معاشرے کی پدرانہ جڑوں سے ہے جہاں شادی کے بعد خواتین سے سمجھوتوں کی توقع کی جاتی ہے۔

اور دنیا کے ہر کونے میں ازدواجی رشتے سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن روایات اور خواتین سے نفرت قوانین پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ملالہ کے بقول مجھے یہی خوف تھا کہ کہیں میں اپنی آزادی، انسانیت کے لیے کی جانے والی کوششیں نہ کھو دوں اور اس کا میرے پاس یہی حل تھا کہ میں شادی سے اجتناب کروں۔

یاد رہے کہ ملالہ نے رواں برس جولائی میں برٹش ووگ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اب تک یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنی ہے؟ اگر آپ کسی شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شادی کے کاغذات پر دستخط کرنا کیوں ضروری ہے؟ صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا تھا اور صارفین کی جانب سے ملالہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شادی کے بعد مذکورہ میگزین کو ہی دیے گئے انٹرویو میں ملالہ نے شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں پرورش پانے والی لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ شادی ایک آزاد زندگی کا متبادل ہے۔

اگر خواتین تعلیم اور نوکری حاصل نہیں کر پاتیں یا امتحان میں کامیاب نہیں ہو پاتیں تو انہیں جلد شادی کرنے کا کہا جاتا ہے۔ملالہ نے بتایا کہ بہت سی لڑکیاں جن کے ساتھ وہ پلی بڑھی تھیں ان کی شادی اس سے پہلے ہی ہو گئی تھی کہ وہ اپنے کریئر سے متعلق کوئی فیصلہ کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے ارد گرد موجود لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب مد نظر رکھتے ہوئے انہیں شادی کے بارے میں سوچنا کافی مشکل لگا۔ملالہ نے اپنے گزشتہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اس وقت ان سے شادی سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا یہی جواب تھا کہ شاید شادی ممکنہ طور پر ان کے لیے نہ ہو۔

ملالہ نے کہا کہ ان کے دوستوں، رہنمائی کرنے والوں اور شوہر کے ساتھ گفتگو نے انہیں اس بات پر غور کرنے میں بہت مدد کی کہ وہ کیسے برابری، انصاف اور دیانت کے ساتھ یہ رشتہ قائم کر سکتی ہیں۔ملالہ نے اپنے شوہر کے حوالے سے بتایا کہ 2018 میں موسمِ گرما میں عصر اپنے دوستوں سے ملنے آکسفورڈ آئے تھے اور انہوں نے کرکٹ کے شعبے میں کام کیا ہے تو مجھے ان سے بے شمار باتیں کرنا تھیں۔

ملالہ کے بقول عصر کو میری حسِ مزاح پسند تھی اور پھر ہم بہت اچھے دوست بن گئے۔ ہمیں معلوم ہوا کے ہمارے درمیان بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے سے بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ ملالہ کے شوہر عصر کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے ،اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button