مقبوضہ بیت المقدس ، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسجد اقصیٰ میں غاصب صہیونیوں کی طرف سے 52 سال قبل لگائی گئی #آگ اور دہشت گرد #صہیونی مائیکل روہان کی سازش کو باون سال ہوگئے ہیں۔ #مسجد #اقصیٰ کے امام اور ممتاز فلسطینی عالم دین الشیخ عکرمہ صبری اس وقت نوجوان تھے، جب انہوں نے قبلہ اول میں آتشزدگی کا خوفناک مرحلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اپنے ایک #انٹرویو میں #الشیخ #عکرمہ صبری نے بتایا کہ جب مسجد اقصیٰ میں آگ لگائی گئی تو اس وقت انہوں نے کیا دیکھا اور مسجد میں لگی آگ کو کیسے #بجھایا گیا؟
وہ بتاتے ہیں مسجد اقصیٰ میں لگائی گئی آگ پر قابو پانے کے لیے آنے والے فلسطینیوں کو روکنے میں بھی صہیونی فوج اور پولیس پیش پیش رہی۔یہ جمعرات 21 اگست 1969کا دن تھا۔ الشیخ عکرمہ صبری اس وقت بیت المقدس کے مشرق میں الجوز کالونی میں رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر 30 منٹ پر انہوں نے اپنے گھر سے دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے۔ یہ بادل مسجد اقصیٰ کی سمت میں تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ قبلہ اول کو آگ لگ چکی ہے اور ہمارا اندیشہ درست ثابت ہوا۔سب لوگ اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر قبلہ اول کی طرف دوڑ پڑے۔
سارے سارے مرد ، عورتیں اور بچے قبلہ اول کی طرف جا رہے تھے۔ القدس کی تمام کالونیوں میں ایک ہلچل مچ گئی تھی اور لوگ دیوانہ وار قبلہ اول کی طرف دوڑے چلے آرہے تھے۔ انہوں نے ہاتھوں میں برتن اور کپڑے کے تھیلے اٹھا رکھے تھے جن میں وہ مٹی اور پانی اٹھا کر مسجد اقصیٰ کی طرف بڑھ رہے تھے تاکہ قبلہ اول میں غاصب صہیونیوں کی طرف سے لگائی گئی آگ پر قابو پا جاسکے۔اس دوران فلسطینیوں کی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور امدادی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں مگر قابض فوج اور پولیس نے انہیں جگہ جگہ روکنے کی مذموم کوشش کی۔
تاہم اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود ہم مقامی وقت کے مطابق دن دس بجے آگ پرقابو پانے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے فوری طور پربغیر کسی تحقیق کے دعویٰ کیا کہ مسجد میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے مگر عرب انجینئروں اور ماہرین نے صہیونی ریاست کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر کہا کہ مسجد اقصیٰ کے الیکٹرک نظام میں کوئی خرابی نہیں ہے، یہ آگ لگی نہیں باقاعدہ منصوبہ بندی سے لگائی گئی ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں لگائی جانے والی ا?گ نے بیت المقدس کے فلسطینیوں کو شدید صدمے سے دوچار کردیا تھا اور لوگ اس کیفیت کو دیکھنے کے بعد غم اور صدمے سے نڈھال تھے اور القدس میں غیراعلانیہ سوگ کا سماں تھا۔الشیخ صبری نے کہا کہ صدمہ تمام پریشانیوں میں زیادہ تھا۔ ہم سب کے دل شدید دکھی تھے اور یہ صدمہ آج تک موجود ہے۔



