آئس لینڈ کی وزیر کا استعفیٰ: 15 سالہ لڑکے سے تعلق اور بچے کی پیدائش کا اعتراف
آئس لینڈ کی وزیر برائے اطفال 22 سال کی عمر میں نوعمر سے تعلق کے باعث مستعفی
ریکیاویک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آئس لینڈ کی حکومت میں شامل خاتون وزیر برائے اطفال ایس تھلڈور لوئا تھورسڈوٹیر (58 سالہ) کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 30 سال پرانے ایک تعلق کا انکشاف ہوا، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر 15 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئیں اور ایک بچے کو جنم دیا۔
وزیر کا اعتراف: پہلی بار 15 سالہ لڑکے سے تعلق قائم کیا
آئس لینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے (RUV) کے مطابق،58 سالہ تھورسڈوٹیر نے اعتراف کیا کہ جب وہ 22 سال کی تھیں تو ان کا ایک 15 سالہ لڑکے کے ساتھ تعلق قائم ہوا، اور ایک سال بعد 23 سال کی عمر میں انہوں نے بچے کو جنم دیا-
آئس لینڈ کی نیوز ایجنسی RUV کے مطابق، تھورسڈوٹیر کی ملاقات ایرک آسمندسن سے مذہبی گروپ Tru og Lif (مذہب اور زندگی) میں ہوئی، جہاں لڑکا گھریلو مسائل کے باعث پناہ لینے آیا تھا۔ تھورسڈوٹیر نے 23 سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، جبکہ اس وقت آسمندسن 16 سال کا ہو چکا تھا۔
آسمندسن کو بیٹے تک رسائی سے انکار
یہ تعلق کئی سال تک خفیہ رہا، لیکن آسمندسن بچے کی پیدائش کے وقت موجود تھے اور پہلے سال ماں اور بچے کے ساتھ وقت گزارا۔ بعد میں، جب تھورسڈوٹیر کی شادی ہوئی تو حالات بدل گئے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آسمندسن نے آئس لینڈ کی وزارت انصاف کو دستاویزات جمع کرائیں تاکہ وہ اپنے بیٹے تک رسائی حاصل کر سکیں۔ تاہم، تھورسڈوٹیر نے 18 سال تک ان سے چائلڈ سپورٹ لینے کے باوجود انہیں بچے تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔
وزیراعظم نے فوری ایکشن لیا
آئس لینڈ کی وزیراعظم کرسٹرن فروسٹڈوٹیر نے کہا کہ انہیں جمعرات کی رات اس معاملے کی اطلاع ملی، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر تھورسڈوٹیر کو اپنے دفتر طلب کیا، جہاں وزیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
تھورسڈوٹیر نے اسکینڈل سامنے آنے کے بعد وزارت سے استعفیٰ دے دیا، مگر وہ بطور رکن پارلیمنٹ کام جاری رکھیں گی۔آئس لینڈ کی وزیراعظم کرسٹرن فروسٹڈوٹیر نے کہا:”یہ ایک سنگین معاملہ ہے، لیکن وزیر نے خود ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ان سے تفصیلی گفتگو کی اور انہوں نے فوراً ذمہ داری قبول کر لی۔
یہ تعلق خفیہ رکھا گیا تھا
آر یو وی (RUV) کی رپورٹ کے مطابق، یہ تعلق کئی سالوں تک خفیہ رکھا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آئس لینڈ میں رضامندی کی کم از کم عمر 15 سال ہے، لیکن 18 سال سے کم عمر کے شخص کے ساتھ تعلق قائم کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ اس جرم میں تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔رضامندی کی عمر 15 سال ہے، لیکن اگر کوئی بالغ شخص کسی نابالغ سے تعلق رکھے جو اس کے زیرِ تربیت ہو یا اس پر مالی طور پر انحصار کرے، تو یہ جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے کیس میں 12 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔



