غزہ پر دوبارہ جارحیت مسلط کی تو امریکی مفادات کو نشانہ بنائیں گے:انصاراللہ
ہم فلسطینی عوام اور فلسطینی دھڑوں کی حمایت میں اپنے موقف پر ثابت قدم رہنے کی تصدیق کرتے ہیں۔
صنعاء :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یمن کی اسلامی مزحمتی تنظیم انصار اللہ گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے زور دے کر کہا ہے کہ یمن فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی تحریک غزہ کی پٹی پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں قابض اسرائیلی ریاست اور اس کے سرپرست امریکہ کے مفادات کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
انصاراللہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم فلسطینی عوام اور فلسطینی دھڑوں کی حمایت میں اپنے موقف پر ثابت قدم رہنے کی تصدیق کرتے ہیں۔ہم جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے فرار کی اسرائیلی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مسلسل غزہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیلی دشمن کس حد تک معاہدے سے مکمل وابستگی سے گریز کر رہا ہے۔” انصاراللہ کا کہنا تھا کہ ایسے لگ رہا کہ اسرائیلی انتہا پسند حکومت اور امریکی انتظامیہ غزہ کو ایک بار پھر آگ اور خون کے سمندر میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اگر ایسا ہو تو خطے میں امریکی اور صہیونی مفادات محفوظ نہیں رہیں گے۔انہوں نے رفح کے محور سے انخلاء نہ کرنے کو قابض اسرائیل کی طرف سے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی اور "امریکی حوصلہ افزائی کے ساتھ وعدوں کے خلاف بغاوت” قرار دیا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی فوج کی رفح محور سے انخلاء میں ناکامی "فلسطینی عوام کے لیے سنگین خطرہ اور مصر، اس کے عوام، حکومت اور فوج کے لیے خطرہ ہے”۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ پر جنگ کی واپسی کا مطلب ہے "پورے دشمن کی آگ میں واپسی ہے۔ ہم مختلف فوجی راستوں میں مدد کے ساتھ مداخلت کریں گے”۔انصاراللہ نے "اسرائیل” کو غزہ اور لبنان کے خلاف اپنے قبضے اور جارحیت جاری رکھنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم وہاں کے اپنے مزاحمتی بھائیوں سے کہتے ہیں: آپ اکیلے نہیں ہیں، اللہ آپ کے ساتھ ہے اور ہم آپ کے ساتھ ہیں”۔



