جہد ایمانی,اگر بچوں کا ایمان عزیز ہے تو صحیح اسکولوں کا انتخاب کیجئے
مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد
موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت وافادیت کسی سے مخفی نہیں، تعلیم کے بغیر سماجی ترقی اور اقوام عالم پر برتری ممکن نہیں، تعلیم سے عاری اقوام ہمیشہ پچھلی صفوں میں جگہ پانے پر مجبور ہوتی ہیں،اور قیادت کی باگ ڈور ہمیشہ ایسے اقوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتی ہے، مسلمانوں پر ایک دور ایسا گزرا جب کہ دنیا کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھی،یہ وہ دور تھا جب تعلیم میں اُن کا طوطی بول رہا تھا، پھر بتدریج و ہ منصبِ قیادت سے ہٹا دیئے گئے، قیادت سے محرومی کے جہاں اور اسباب تھے وہیں ایک بنیادی سبب تعلیمی پسماندگی بھی تھی، ماضی کی تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم پر بھر پور توجہ دینی چاہئے۔
بیشتر اسکولوں میں تعلیم کا آغاز ہوچکا ہے، اپنے بچوں کو زیور ِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی بڑے خسارہ کی بات ہوگی، مقامی تنظیموں اور مسلم عمائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ سلم بستیوں کے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کے لئے باقاعدہ مہم چلائیں، گھر گھر پہنچ کر انہیں اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دلوانے کی ترغیب دیں جو مسلم خاندان تعلیمی اخراجات کے متحمل نہ ہوں، ان کا تعاون کیا جائے، خستہ حال مسلم بستیوں میں جگہ جگہ بیداری تعلیم کے جلسے منعقد کئے جائیں۔
مسلم بچوں کی بڑی تعداد ہوٹلوں میں، بیکریوں میں اور کارخانوں میں ملاز م ہے ان بچوں کے والدین سے ملاقات کر کے انہیں تعلیم کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جائے، بہت سے طلبہ درمیان میں ترک تعلیم کردیتے ہیں ان کی صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے، مسلمانوں میں آئے دن تنظیموں کا قیام عمل میں آتا رہتا ہے۔
لیکن ایسی تنظیم کی شدید ضرورت ہے جو صرف تعلیم پر توجہ دے،اور تعلیم کے لئے باقاعدہ مہم چلائے اور ذہن سازی کرے، نیز اس تنظیم کے کارکنوں کی رسائی پسماندہ بستیوں کے ایک ایک گھر تک ہو،وہ ان تمام محلوں کا سروے کریں جو تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں، اس کا م کے لئے جہاں جسمانی جدوجہد در کارہے، وہیں مالی اخراجات بھی ضروری ہے، ہمارے شہر میں صاحب ثروت مسلمانوں کی کمی نہیں، ان میں بیشتر افراد دینی اداروں اور تنظیموں کا تعاون بھی کرتے ہیں، ان سرمایہ دار مسلمانوں کو تعلیمی مہم پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی جائے، تعلیم پر توجہ وقت کا اہم تقاضہ ہے، جس کے لئے باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے کس قسم کے اسکولوں کا انتخاب کریں، مسلمانوں کے لئے عصری تعلیم جس قدر ضروری ہے اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کے دین وایمان کا تحفظ کیا جائے،اگر عصری تعلیم دین وایمان کے بدلے حاصل ہو تو ایسی تعلیم سے بہتر یہ ہے کہ بچوں کو ناخواندہ رکھا جائے، ایمان واسلام ایک مسلمان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، مسلمان سب کچھ قربان کرسکتا ہے لیکن اس عظیم سرمایہ سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
بچوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کرکے خواہشمند مسلمان اس پہلو کو نظرانداز کردیتے ہیں، ان کے پیش نظر صرف معیاری تعلیم ہوتی ہے، چنانچہ اپنے بچوں کو خطیر رقم فیس اداکرکے مشنری اسکولوں کے حوالے کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان اسکولوں میں ان کے بچوں کا دین وایمان کھر چ لیاجارہا ہے،ملک میں رائج تعلیمی نظام انگریزوں کے دور کا ہے، اگر چہ اس میں ہلکی سی تبدیلیاں لائی جاتی رہی ہیں، لیکن اصلاً ڈھانچہ انگریزوں کا بنایاہوا ہے، یہ نظام تعلیم کچھ ایسے انداز سے مرتب کیا گیا ہے کہ اس کا پڑھنے والا طالب علم دینی اعتبار سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا علامہ اقبال ؒ نے بڑے موثر اسلوب میں اس نظام تعلیم کی زہر ناکی کا نقشہ کھینچا ہے ؎
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین مروت کے خلاف
اہل کلیسا کا تیار کردہ نظام تعلیم دین مروت کے خلاف ایک سازش ہے، اس نظام تعلیم سے بچوں کے ذہن ودماغ پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ درجہ ذیل ہیں،الا یہ کہ والدین دینی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔
(۱)یہ نظام تعلیم اپنے طلبہ میں مال ودولت کی شدید حرص پیدا کرتا ہے، ا س لئے کہ اس نظام تعلیم کا مقصد تن پروری اور تن آسانی اور عیش وعشرت کا حصول ہوتا ہے، اور یہ شروع سے اس کے پڑھنے والوں کے پیش نظر اعلیٰ ڈگری کے حصول کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہو تا ہے، چنانچہ حصول ڈگری کے بعد دولت بٹورنے کی فکر سوار ہو جاتی ہے، ڈاکٹروں کو مریض سے ہمدردی کے بجائے پیسوں سے سروکار ہو تا ہے، اسی طرح ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والا اپنے شعبہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔
(۲) اس نظام تعلیم سے بچوں سے شرم وحیا ء رخصت ہو جا تی ہے،چونکہ بچے شروع سے مخلوط ماحول میں رہتے ہیں،بچیوں سے چھیڑ چھاڑ اور اختلاط کے سبب شرم وحیاء اور عفت وپاکدامنی کے جذبات دل سے ختم ہو جا تے ہیں۔
(۳) مغربی نظام تعلیم بچوں کو تہذیب وتمدن میں انگریزوں کی نقالی کا شیدائی بنادیتا ہے، چنانچہ مسلمان بچے بھی کھانے پینے، لباس وپوشاک طرز معاشرت میں مغرب کی تقلید کو اپنے لئے باعث ِ اعزاز سمجھتے ہیں بلکہ مغرب کی بد اخلاقی کو روشن خیالی کا نام دیا جانے لگا ہے، کھڑے کھڑے پیشاب کرنے اور کھڑے کھڑے کھانے کو فیشن سمجھا جانے لگا ہے، اس کے برخلاف بیٹھ کر پیشاب کرنے اور دسترخوان بچھا کر کھانے کو دقیانوسیت سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔
(۴) مغربی نظا م تعلیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے پڑھنے والوں کے دلوں سے ایمان واسلام کی عظمت نکل جاتی ہے، وہ مذہب کو ایک فضول مشن سمجھنے لگتے ہیں، نصاب تعلیم اور طریق تربیت ہی کچھ اس انداز کا ہو تا ہے کہ آدمی کے دل سے مذہبی تدارک کی اہمیت یکسر ختم ہو جاتی ہے۔
(۵) مغربی نظام تعلیم کا ایک خطرناک اثر دین ودنیا میں تفریق کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے، اس نظام تعلیم سے متاثر طلبہ نے دین کو آدمی کا پرائیوٹ مسئلہ قرار دیا جس کا دنیا وی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، جس طرح عیسائیت کے پیروکاروں نے دین ودنیا کو دو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا،اسی طرح جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی دنیاوی معاملات میں مذہب کو دخیل کرنے سے گریز کررہا ہے۔
(۶)اس نظام تعلیم کا سب سے خطرناک اثر مسلم بچوں پر یہ مرتب ہو رہا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات واقدار کے تعلق سے شکوک وشبہات اور بے اعتمادی کاشکار ہورہے ہیں، بہت سے نوجوان تو برملا کہہ رہے ہیں کہ انہیں اسلام کا فلاں قانون منظور نہیں،عیسائیوں کے تحت چلنے والے مشنری اسکول خالص تبشیری مقاصد کے تحت چلائے جاتے ہیں، ان اسکولوں کا مقصد پڑھنے والے طلبہ کو اسلام سے بدظن کرکے انہیں عیسائیت سے قریب کرنا ہوتا ہے، مشنری اسکولوں میں تعلیم پانے والے مسلم بچے اسلام کے بارے میں کس طرح شکوک وشبہات میں مبتلا ہوتے ہیں،اُ س کا اندازہ درج ِ ذیل واقعات سے لگا یا جا سکتا ہے۔
(۱)ایک مسلمان طالب علم سے جس کی ابتدائی تعلیم کانوینٹ میں ہوتی تھی،سرکاری نوکری کے لئے انٹرویو کے درمیان ممتحن نے سوال کیا کہ اسلام میں مرد کو طلاق کا حق حاصل ہے لیکن عورت اس حق سے محروم ہے، اسی طرح مرد کو ایک ساتھ چار بیویاں رکھنے کی اسلام اجازت دیتا ہے جبکہ عورت کے لئے اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں، اس سلسلہ میں بحیثیت مسلمان آپ کا کیا خیال ہے؟ تو وہ مسلم نوجوان بجائے اس کے کہ وہ ان اعتراضات کا جواب دیتا،یوں کہنے لگا کہ مجھے خود ان اسلامی قوانین پر اعتراض ہے، عورتوں کے سلسلے میں اسلام کی یہ ناانصافی خود میری سمجھ سے بھی باہر ہے، میرے خیال میں اسلامی قوانین میں تبدیلی کر کے عورت کو بھی مرد کی طرح بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت دینی چاہئے تاکہ دونوں کے درمیان مساوات قائم رہے۔
(۲) ایک مسلم طالب علم نے جب مشنری اسکول میں اپنے استاد سے یہ سنا کہ روزہ انسان کے لئے غیر فطری اور غیر ضروری عمل ہے، طبی نقطہ? نظر سے چار پانچ گھنٹے تک مسلسل کچھ نہ کھانے پینے سے ایسی کمزوری پید ا ہوتی ہے جس کا اثر بڑھاپے میں ہوتا ہے،جب یہ طالب علم اپنے گھر آیا تو اپنے ناخواندہ لیکن دیندار والد سے جنہوں نے اعلی معیاری تعلیم کے شوق میں اپنے اس لخت جگر کو کانوینٹ میں داخل کروایا تھا پوچھا کہ کیا روزہ سے واقعی جسم میں کمزوری ہوتی ہے؟اور کیا یہ غیرضروری عمل ہے؟
بیچارہ والد اس کے علاوہ کچھ جواب نہیں دے سکا کہ یہ ہمارے خد ا کا حکم ہے، لیکن لڑکا روزہ کے فوائد عقلی طور پر ثابت کرنے پر اصرار کررہا تھا اور کہنے لگا کہ کل سے میں بھی بلا وجہ اپنے کو روزہ رکھ کر نہ تھکاوں گا جب تک آپ مجھے یہ نہ سمجھا دیں کہ اس سے کوئی فائدہ بھی ہے، اسی دوران تین دن میں اُس کا انتقال ہو گیا۔
بنگلور کے ایک معروف عالم دین نے ایک ایسی خاتون کا واقعہ جس سے ان کے خاندانی مراسم ہیں نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ میرے گھر اپنے بچوں کو قرآن پاک اور دینیات کی تعلیم کے لئے لا یا کرتی تھی، ایک دن وہ روتے ہوئے آئی،جب رونے کی وجہ پوچھی گئی تو بتا یا کہ ابھی گزرتے ہوئے راستے میں اچانک میرے دونوں بچے نظر نہ آئے تو میں ادھر اُدھر نظریں دوڑاتی رہی،اچانک میری نظر راستے میں بنے ہوئے مریم یا عیسی ؑ کے ایک مجسمہ پر پڑی تووہاں میرے دونوں بچے مجسمے کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں، یہ دیکھ کر وہا ں گئی اور اُن کو مار کرلے آئی،اس پر بچے کہتے ہیں، ہم نے کیا برا کیا،یہ کام تو ہم اسکولوں میں روزانہ کرتے ہیں۔
ان حالات کی روشنی میں مسلمان والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ایسے اسکولوں کا انتخاب کریں جہاں عصری تعلیم کے ساتھ دینیا ت بھی پڑھا ئے جاتے ہوں، مشنری اسکولوں سے بالکل احتراز کریں، شہر میں مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں کی کمی نہیں ہے، لیکن مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں بھی ایسے اسکولوں کا انتخاب کریں، جہاں اسلامی تربیت اور دینی مضامین پڑھا ئے جاتے ہوں،اکثر مسلمانوں کو مسلم مینجمنٹ کے تحت چلنے والے اسکولوں کے بارے میں تعلیمی معیاری کی کمی کی شکایت رہتی ہے، کسی حد تک یہ شکایت درست معلوم ہوتی ہے۔
لیکن اس کاحل یوں نکالا جا سکتا ہے کہ صاحب ثروت مسلمان آگے آئیں اور خدمت دین کے جذبے کے تحت معیاری اسکول قائم کریں،تاکہ مسلمان معیاری تعلیم کے لئے مشنری اسکولوں کا رخ نہ کرسکیں، یہ وقت کا اہم تقاضہ ہے۔



