بین ریاستی خبریں

وزیراعلیٰ کی کرسی پیش کی جاتی تو میں پوری این سی پی ساتھ لے آتا: اجیت پوار

میں پہلی بار 1990 میں قانون ساز اسمبلی کا رکن بنا تھا

ممبئی، 8اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)رواں سال کے آخر میں مہاراشٹر اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ابھی سے سیاست گرم ہو گئی ہے۔ کئی قد آور رہنما اپنے سیاسی مستقبل کی تلاش میں پوری طرح جٹ گئے ہیں۔ اس درمیان مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے ایک حیرت انگیز بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بی جے پی اور شیو سینا نے انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کی پیشکش کی ہوتی تو وہ پوری نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کو اپنے ساتھ لے آتے۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ اجیت پوار نے جب یہ بات کہی تو اس وقت اسٹیج پر ایکناتھ شندے اور دیوندر فڑنویس دونوں موجود تھے۔اجیت پوار نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی سوانح عمری ‘یودھا کرم یوگی-

ایکناتھ سمبھاجی شندے کتاب کے اجرا کے موقع پر درج بالا بات مذاق کے طور پر کہی؛ لیکن اس کے کئی سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر اجیت نے خود کو شندے اور فڑنویس کے مقابلے سینئر بھی قرار دیا۔ انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ فڑنویس پہلی بار 1999 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے، ایکناتھ شندے 2004 میں رکن اسمبلی بنے جبکہ میں پہلی بار 1990 میں قانون ساز اسمبلی کا رکن بنا تھا لیکن سبھی آگے نکل گئے اور میں پیچھے رہ گیا۔قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں اجیت پوار گروپ اکیلے انتخاب لڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی اجیت پوار پارٹی میں تبدیلی کے موڈ میں بھی دکھائے دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بارامتی ورنداون گارڈن میں کارکنوں کی میٹنگ کے دوران انہوں نے لوک سبھا انتخابات میں شکست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سبھی سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ پوار نے کہا کہ 9 تاریخ سے ریاست کا دورہ کر رہا ہوں، مجھے اپنے گھر کا بھی خیال رکھنا ہے۔ لوک سبھا میں ہم کئی بوتھوں پر پچھڑ گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button