سرورققومی خبریں

اگر ’السلام علیکم‘ کہنا غیر قانونی ہے تو میں نہیں کہوں گا: خالد سیفی کا عدالت میں دوٹوک بیان

نئی دہلی، 10 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)’السلام علیکم‘ کے جملے پر دہلی پولیس کے تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے #دہلی #فسادات سازش کیس کے ملزم اور کارکن خالد سیفی نے جمعہ کو کہا کہ اگر یہ غیر قانونی ہے تو یہ کہنا بند کردیں گے۔سیفی کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے کچھ دن پہلے کہا کہ اس کیس کے ایک #ملزم جے این یو کے طالب علم شرجیل امام نے اپنی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ سے کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطاب ایک مخصوص کمیونٹی سے تھا۔

سیفی نے ایڈیشنل سیشن #جج امیتابھ راوت سے پوچھاکہ میں ہمیشہ اپنے دوستوں کو سلام پیش کرتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ غیر قانونی ہے تو میں یہ کہنا چھوڑ دوں گا۔ یہ کوئی قانون ہے یا استغاثہ کا تصور؟۔

اس سوال پر جسٹس راوت نے واضح کیا کہ یہ استغاثہ کی دلیل ہے نہ کہ عدالت کا بیان، عدالت میں سماعت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوئی۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امیت پرساد نے یکم جنوری 2020 کو علی گڑھ میں #شرجیل امام کی تقریر پڑھ کر سنائی اور کہاکہ انہوں نے (شرجیل امام) اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم کہہ کر کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک برادری سے خطاب تھا۔

سیفی نے کہا کہ جب بھی انہیں #ضمانت ملے گی، وہ سازش کے مقدمے میں چارج شیٹ پر 20 لاکھ قیمتی #کاغذات ضائع کرنے پر پولیس کے خلاف نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں مقدمہ دائر کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ #سیفی سمیت کئی دیگرمشہور افراد کے #خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر فروری 2020 میں تشدد کاماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ اس تشدد میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button