بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل پر پابندیاں نہیں لگتیں تو عالمی فوجداری عدالت بند کردیں: اقوام متحدہ نمائندہ

نیویارک، 25دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے رہائشی حقوق بالاکرشنن راجا گوپال نے کہا کہ اگر عالمی فوجداری عدالت،غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم پر بہت کم وقت میں کارروائی نہیں کرتی ہے تو ایک نئی بین الاقوامی عدالت قائم کی جانی چاہئے۔سوشل میڈیا ایکس پر اپنے پیغام میں،اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے راج گوپال نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ ادارہ جاتی استثنیٰ کی صورت حال کا نتیجہ تھا۔جہاں اقوام متحدہ کے نمائندے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیل کے حملوں اور اجتماعی سزا کے اقدامات کو نسل کشی سے تعبیر کرتی ہیں۔ وہیں عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو ذمہ داروں خاص طور پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے جیسے احتیاطی اقدام نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 7 دسمبر کو اپنے آخری بیان میں کریم خان نے خبردار کیا تھا کہ جان بوجھ کر غزہ میں شہریوں کو امدادی سامان کی ترسیل کو روکنا جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے اس کے باوجود، اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کو محدود کرنا جاری رکھا، اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام نے 20 دسمبر کو بتایاکہ غزہ میں ہر چار میں سے ایک شخص بھوک کا شکار ہے، جبکہ بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں یہ شرح دراصل 90 فیصد سے زیادہ ہے۔کریم خان کو نومبر میں رام اللہ میں اسرائیل اور پھر فلسطینی حکومت کا دورہ کرنے پر اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب غزہ پر اسرائیل کے اندھا دھند حملے اپنی پوری شدت کے ساتھ ہو رہے تھے لیکن وہ غزہ نہیں جا رہے تھے ،جہاں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی جاری تھی۔

کریم خان نے یوکرین کیخلاف روس کی جنگ شروع ہونے کے 50 دن بعد کیف کے قریب واقع شہر بوچا میں تحقیقات کیں اور تقریباً 1 سال کے عرصے میں یوکرین کے معاملے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی تھی۔عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر دفتر نے فلسطین میں ہونے والے جرائم کی 8 سال طویل تحقیقات کے باوجود ابھی تک گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے ہیں جو کہ دوہرے معیار کی ترجمانی کر تا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button