بین الاقوامی خبریں

اگر عالمی فوجداری عدالت گرفتاری وارنٹ کی درخواستوں پر ایکشن لیتی ہے،تو نیتن یاھو کا کیا ہوگا؟

جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کامعاہدہ ہو یا نہ ہو،رفح پر حملہ ہو گا

دی ہیگ ، یکم مئی::(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی حکومت دی ہیگ میں قائم عالمی فوج داری کی طرف سے متوقع پابندیوں سے خوفزدہ ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ بینجمن نیتن یاہو اور دیگر سینئر اسرائیلی حکام کے خلاف دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتاری کی ہدایت دے سکتی ہے۔لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ فوجداری عدالت نے اس سلسلے میں اپنے منصوبوں کو خفیہ رکھا تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے پاس فکر مند ہونے کی معقول وجہ ہے، کیونکہ اس سے قبل اسی نوعیت کے الزامات روسی صدر ولدی میر پوتین پر یوکرین جنگ کے دوران لگ چکے ہیں۔

خطے کے اپنے دو حالیہ دوروں کے دوران پراسیکیوٹر کریم خان نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کو بنیادی خوراک، پانی اور طبی سامان ملنا چاہیے جس کی انہیں مزید تاخیر کے بغیر اور بڑے پیمانے پر ضرورت ہے۔ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی ضرورت ہے۔انہوں نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اس پر غزہ میں شہریوں کو خوراک اور امداد کی فراہمی میں کوتاہی نہ برتے۔ یہ وہ مطالبہ ہے جس کی دنیا کی بیشتر حکومت جن میں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ کی مبصر فلسطینی ریاست بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن نہیں ہے کہ کریم خان مبینہ طور پر نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اوراسرائیلی آرمی چیف ہرزی ہیلیوی کے خلاف غزہ میں فلسطینیوں کو جان بوجھ کر بھوکا مرنے کے الزامات پر دباؤ ڈالیں گے۔یہ وہی کریم خان ہیں جنہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو یوکرین جنگ میں یوکرین کے بچوں کو اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا۔

امکان ہے کہ کریم خان نیتن یاہو کیخلاف مزید پیچیدہ الزامات کی طرف جانے سے پہلے غزہ میں براہ راست الزامات کے ساتھ شروع کریں گے۔چونکہ اسرائیلی حکومت نے ’آئی سی سی‘ کے عملے کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔اس لیے خان کو اسرائیل کے دیگر ممکنہ جنگی جرائم کو ثابت کرنے کے لیے درکار تفصیلی تحقیقات کو مکمل کرنے میں کچھ وقت لگے گا جن میں شہری علاقوں پر اندھا دھند بمباری اور غیرمتناسب شہری نتائج کے ساتھ فوجی اہداف پر گولی چلانا جیسے واقعات ہیں۔برطانوی اخبار’دی گارڈین‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نیتن یاہو یا ان کے نائبین کو مقدمے کے حوالے سے ان کا سفر اچانک محدود ہو گیا ہے۔اس سے واشنگٹن اورلندن کے لیے یہ بہانہ کرنا بھی مشکل ہو جائے گا کہ اسرائیلی فوج کو مسلسل مسلح کرنا جنگی جرائم میں حصہ نہیں ڈالتا۔مزید الزامات کا پہلا دور مزید کا ایک واضح خطرہ ہوگا۔

صہیونی وزیر اعظم کا جنگی جنون اپنے شباب پر کہا، جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کامعاہدہ ہو یا نہ ہو،رفح پرحملہ ہو گا

مقبوضہ بیت المقدس ، یکم مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ غزہ کے جنوبی شہر رفح میں فوجی آپریشن کریں گے، قطع نظر اس کے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ میں یرغمالوں کی رہائی کا کوئی معاہدہ طے ہو یا نہ ہو۔نیتن یاہو کے دفتر نے یہ بیان، ان کی یرغمالوں کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات سے منسوب کیا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم نے کہاکہ یہ خیال کہ ہم جنگ کو اس کے تمام اہداف کے حصول سے قبل روک دیں گے،بالکل ناممکن ہے۔ کوئی معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا،مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے ہم رفح میں داخل ہو ں گے اور وہاں حماس کے دستوں کا صفایا کردیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کو کہا کہ امریکی صدرجو بائیڈن اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ جنگ بندی کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مصر اور قطر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔مصری صدر السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ فون کالز میں بائیڈن نے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ غزہ میں حماس کے پاس ابھی تک زیر حراست یرغمالوں کی رہائی پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں یرغمالوں کی رہائی کو غزہ کے لوگوں کے لیے فوری جنگ بندی اور امداد کی ترسیل میں حائل واحد رکاوٹ قرار دیاہے۔امریکہ، مصر اور قطر جنگ روکنے کے لیے کئی مہینوں سے جاری مذاکرات میں شامل رہے ہیں۔

اس وقت زیر غور ایک تجویز میں،تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ بندی، حماس کے پاس موجود یرغمالوں کی رہائی، اسرائیل میں زیر حراست فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ شامل ہے۔حماس کے حکام نے اس تجویز پر بات چیت کے لیے پیر کو قاہرہ میں مصر اور قطر کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن سعودی عرب، اردن اور اسرائیل کے حکام کے ساتھ صورتحال پر بات چیت کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے تازہ بیان کے بعد اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹریس نے منگل کو نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ رفح پر حملہ نہ کرے۔ انہوں نے کہاکہ رفح پر کوئی فوجی حملہ ایک ناقابل برداشت اشتعال انگیزی ہوگی جس میں مزید ہزاروں شہری مارے جائیں گے اور لاکھوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ایسی کوئی جارحانہ کارروائی غزہ میں فلسطینیوں پر تباہ کن اثر پڑے گا اور مغربی کنارے اور وسیع تر خطے پر اس کے سنگین اثرات مر تب ہوں گے۔

بین الاقوامی کرمنل کورٹ سے اسرائیل کیلئے جرمن فوجی امداد روکنے کی درخواست مسترد

جینوا، یکم مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے منگل کے روز نکاراگوا کی وہ درخواست مسترد کر دی جو اسرائیل کو جرمنی کی جانب سے دی جانے والی فوجی امداد روکنے کا ہنگامی حکم دینے سے متعلق تھی۔عدالت نے کہا کہ نکاراگوا کی طرف سے پیش کردہ موجودہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ عدالت کو ہنگامی اقدامات جاری کرنے کی ضرورت ہو۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے جرمنی کی طرف سے کیس کو مکمل طور پر خارج کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔نکاراگوا کا الزام تھا کہ جرمنی غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کر کے 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

نیدرلینڈز میں نکاراگوا کے سفیر کارلوس ہوزے ارگیلو گومیز نے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایاکہ جرمنی نسل کشی کو روکنے یا بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔جرمنی کا، جو اسرائیل کا دیرینہ حامی ہے، استدلال تھا کہ حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے جرمنی نے اسرائیل کو بہت کم ہتھیار برآمد کیے ہیں۔اسرائیل، جو اس مقدمے کا فریق نہیں ہے، اس سے انکار کرتا ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔

اس کا اصرار ہے کہ وہ اپنے دفاع میں کاروائی کر رہا ہے۔حماس کے عسکریت پسندوں نے اپنے حملے کے دوران تقریباً 1200 افراد کو ہلاک اور 240 سے زیادہ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سے اب بھی ایک سو سے زیادہ اس کے پاس زیر حراست ہیں۔حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے فوجی مہم شروع کرنے کے بعد سے غزہ میں 34,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوبی افریقہ نے گزشتہ دسمبر میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے اسرائیل کے خلاف ہنگامی اقدامات کرنے کو کہا تھا۔اس نے الزام عائد کیا تھا کہ تل ابیب فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی کا ذمہ دار ہے۔اسرائیل ایسے الزامات کی سختی سے تردید کر تا ہے۔اسرائیل کے قانونی مشیر ٹال بیکر نے اس مقدمے میں عالمی عدالت کے ججوں کو بتایا تھا کہ اسرائیل ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا نہ تو اس نے آغاز کیا تھا اور نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا۔اس مقدمے میں عالمی عدالت انصاف نے جنوبی افریقہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسرائیل کو غزہ میں ہلاکتیں روکنے کے لیے اقدامات کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button