’ میں زندہ ہوں‘: ترکیہ میں شامی نوجوان کی ملبے تلے سے ویڈیو سامنے آئی
یہ ایک شامی لڑکے کی کہانی ہے جو یہ سوچ کر اپنے ملک کے جہنم زار سے نکلا تھا کہ یہاں پر موت..
دمشق،8فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شام میں جنگ کے شعلوں سے بچ نکل کر ترکیہ میں پہنچنے والے نوجوان کو وہاں پر بھی موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑے گا۔یہ ایک شامی لڑکے کی کہانی ہے جو یہ سوچ کر اپنے ملک کے جہنم زار سے نکلا تھا کہ یہاں پر موت کے جاری رقص سے بچنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ وہ ہجرت کرکے ترکیہ کے شہر ہاتائے پہنچ گیا تاہم یہاں جس عمارت میں اسے رکھا گیا تھا وہ پیر 6 فروری کے زلزلہ میں گر کر تباہ ہوگئی۔ شامی نوجوان نے ملبے کے نیچے سے ویڈیو کلپ فلمایا اور احساسات بیان کردیئے۔
نوجوان کہتا سنائی دے رہا ہے کہ میں زندہ ہوں۔نوجوان ویڈیو میں یہ بتاتا ہوا نظر آیا کہ اس کا احساس ناقابل بیان ہے۔
اس نے کہا کہ اس کا خاندان اور بہت سے دوسرے خاندان ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ اسے ملبے کے درمیان عمارت کے گرنے سے لوگوں کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔یاد رہے امدادی ٹیمیں ترکیہ اور شام میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں وقت کے ساتھ دوڑ رہی ہیں۔ زلزلہ میں اب تک 8 ہزار سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا بھی خدشہ ہے۔ ترکیہ اور شام میں آنے والے اس زلزلہ میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔
استسلم للموت ظناً منه أن رصيده في الحياة انتهى.. مقطع فيديو متداول لشاب سوري وثق وجوده تحت الأنقاض في مدينة #هاتاي التركية#زلزال_ترکیا #تركيا #زلزال_سوريا_تركيا pic.twitter.com/b33AHCHlP2
— فراس الماسي |Firas Almasi 💎 (@FAlmasee2) February 8, 2023
ترکیہ، شام میں زلزلے سے اموات 9000 سے بڑھ گئی
دبئی،8فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پیر 6 فروری کو خوفناک زلزلہ سے ترکیہ اور شام میں اموات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، امدادی کارکنوں اور ٹیموں نے ملبے تلے سے نعشوں کو نکالنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 9000 سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ زلزلہ سے ترکیہ اور شام میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ترکیہ کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کو اعلان کیا کہ نرکیہ کے جنوب مشرق میں آنے والے زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 6,234 ہو گئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 37,011 تک پہنچ گئی ہے۔جنوبی ترکی میں پناہ گاہوں اور ہسپتالوں میں رش لگ گیا ہے۔ دریں اثنا ترکیہ فوج کے طیاروں نے ادانا اور ملاتیا سے متعدد زخمیوں کو استنبول منتقل کیا۔دوسری طرف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شمال مغربی شام میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 2700 تک پہنچ گئی۔
دریں اثنا بہت سی مقامی تنظیموں نے حال ہی میں مدد کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ خاص طور پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کے لیے کسی بڑے میکانزم اور جدید تکنیکی ذرائع کی عدم موجودگی میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔اس تناظر میں پریس ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حلب میں طبی سامان اور پناہ گاہوں کی شدید قلت ہے اور اس شہر میں اب بھی کئی خاندان ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔دونوں ملکوں میں بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں۔ ملبے کے نیچے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔ اگرچہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں وقت بڑھنے کے ساتھ امید کم ہوتی جاتی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اعلان کیا کہ اسے خدشہ ہے کہ اموات کی اصل تعداد ابتدائی بیان کی گئی تعداد سے 8 گناہ زیادہ ہوگی۔
#Syria : “We hear their voices, they are still alive but there is no one to bring them out” – trauma & despair of families in town of Jindires -جنديرس – devastated by earthquake #هزه_ارضيه #زلزال #سوريا pic.twitter.com/9IkrDr17Ev
— sebastian usher (@sebusher) February 6, 2023
یا اللہ! میری توکمر ہی ٹوٹ گئی، سارا خاندان گنوانے کے بعد شامی رو پڑا
دمشق؍دبئی ،8فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ترکیہ اور شام میں خوفناک زلزلہ کے بعد دل کو دہلا دینے والے مناظر سامنے آ ر ہے ہیں۔ ایک نئے دل دہلا دینے والے ویڈیو کلپ میں ایک شامی شہری کو اپنے خاندان کے افراد کے نقصان پر دل سے روتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ایک شامی شہری کو اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ روتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ اور دیگر لوگو ادلب گورنری کے شہر سراقب میں عمارت کے گرنے کے نتیجے میں ملبے کے نیچے سے مردہ افراد کو نکال رہے تھے۔ اس موقع پر باپ نے آنسوؤں سے ملے جلے روتے ہوئے کہا کہ اے رب مجھے ان کے ساتھ صبر عطا فرما۔ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرنا۔
اس نے روتے ہوئے مزید کہا کہ ’’اے اللہ میری کمر ٹوٹ گئی‘‘۔ ترکی اور شام میں پیر کی صبح 7.8 شدت کا زلزلہ آیا۔ جس میں اب تک منگل کی رات تک 7500 سے زاید افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ پورے کے پورے شہر میں عمارتیں ایک لائین میں گری ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ اب بھی منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 20 ہزار سے قریب ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
The joy of civil defense personnel and civilians while extracting two alive girls from the rubble of their destroyed house in northern #Syria
🙏🏻❤️🔥#زلزال #هزة_أرضية#earthquake pic.twitter.com/9TbiflpwSp— Mohammad – محمد عساكره (@mohammed_asakra) February 7, 2023



