غزہ کی ملکیت لینے پر قائم ہوں، کچھ حصے شاید دیگر ممالک کو دے دوں: ٹرمپ
غزہ کی پٹی کو خریدنے اور اس کو ملکیت میں لینے پر کاربند
واشنگٹن،10فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اگرچہ غزہ کی پٹی پر قبضے اور اس کی آبادی کی بے دخلی سے متعلق تجویز کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بین الاقوامی سطح پر اور اقوام متحدہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک ان کا دل اس تجویز پر بات کرنے سے بھرا نہیں۔ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کو خریدنے اور اس کو ملکیت میں لینے پر کاربند ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کو دے سکتے ہیں۔صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھے مقام میں تبدیل کر دوں گا۔امریکی صدر نے باور کرایا کہ وہ فلسطینیوں پر توجہ دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انھیں قتل نہ کیا جائے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں فلسطینیوں کے امریکا میں داخل ہونے اور انھیں پناہ کا حق دینے کے لیے انفرادی حالتوں کا جائزہ لوں گا۔امریکی صدر کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک فلسطینیوں کا استقبال کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں واپس جانے کے لیے اب کچھ نہیں رہا، یہ جگہ اب تباہی کا مقام ہے۔ باقی جگہ کو بھی منہدم کر دیا جائے گا، ہر چیز کو منہدم کر دیا جائے گا۔دوسری جانب حماس تنظیم کے ایک ذمے دار عزت الرشق نے غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام جبری ہجرت کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ یہ تجویز دے چکے ہیں کہ اسرائیل واشنگٹن کو غزہ پر کنٹرول دے گا اور وہ اسے مشرق وسطیٰ کا ریویرا میں تبدیل کر دیں گے۔ اس سے پہلے فلسطینیوں کو مصر اور اردن جیسے دیگر ملکوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم اس تجویز کی عرب دنیا اور بین الاقوامی سطح پر وسیع مذمت کی گئی ہے۔ کئی عرب اور مغربی ممالک نے اس افسوس ناک منصوبے کو نسلی تطہیر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق نا جائز قرار دیا ہے۔مصر اور اردن پہلے ہی امریکی صدر کی تجویز پر فلسطینیوں کی اپنے ملکوں میں آباد کاری کو مسترد کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ عرب ممالک اسرائیل کے ایک جانب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دوریاستی حل پر عمل درآمد کے موقف پر ثابت قدم ہیں۔



