دبئی،20جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فلسطینی حکام کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے صدر محمود عباس کو اسرائیلی قبضے سے آزادی کے مطالبات میں فلسطینیوں کی حمایت سے آگاہ کیا اور انکشاف کیا کہ 1967 کی سرحدوں کا حوالہ دو ریاستی حل کی بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اس سے قبل امریکا کی طرف سے دو ریاستی حل کی بات کی جاتی رہی ہے مگر سنہ 1967کی حدود پر اعتراض پر پہلی بار جو بائیڈن نے کھل کر بیان دیا۔
الشرق کے مطابق بیت لحم میں دونوں صدور کے درمیان ملاقات میں شریک عہدیداروں نے بتایا کہ صدر بائیڈن نے محمود عباس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں آئرش ہوں، اور میں یہاں پر قبضے کو مسترد کرتا ہوں جیسا کہ میں نے آئرلینڈ میں اسے مسترد کیا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن کے خاندان کا تعلق جمہوریہ آئرلینڈ سے ہے جو برطانوی قبضے میں رہا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ بائیڈن نے عباس کو مطلع کیا کہ اسرائیل کی سیاسی صورتحال اس مرحلے کے دوران سیاسی مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ یہ کہ اگلے نومبر میں اسرائیلی انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنا ضروری ہے،جب تک کہ ایک مستحکم حکومت قائم نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوسکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے اپنے فلسطینی ہم منصب سے کہا کہ آئیے اگلے سال کے آغاز تک انتظار کریں اور ہم بات کریں گے۔
ایک فلسطینی اہلکار نے ’الشرق‘ کو بتایا کہ امریکی فریق نے بیت المقدس میں صدر بائیڈن کے بیان میں آخری لمحات میں ترمیم کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایک مشترکہ بیان جس پر بات چیت کی گئی تھی، سیاسی زبان میں بڑے اختلافات کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔مشترکہ بیان کے مسودوں میں حصہ لینے والے اہلکار نے وضاحت کی کہ صدر بائیڈن نے دونوں صدور کی ملاقات سے قبل ہونے والی دو طرفہ ملاقاتوں میں ایسے جملے استعمال کیے جنہیں امریکی وفد نے مسترد کر دیا تھا۔ ان میں سنہ 1967 کی سرحدوں کا ذکر اور صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل کا مسئلہ وغیرہ۔بائیڈن نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے بیان میں کہاکہ ہم طویل عرصے سے دو ریاستی حل کے حصول کے مقصد کے لیے پرعزم ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ 1967 کی سرحدوں پر دو ریاستی حل ہی دونوں لوگوں کے لیے بہترین حل ہے۔
شیریں ابو عاقلہ کے بارے میں بائیڈن نے کہا کہ وہ ایک امریکی تھیں، اور وہ ایک قابل فخر فلسطینی بھی تھیں۔ اس نے اہم کام کیا اور میڈیا کی آزادانہ کوریج کی۔ ان کی موت صحافت کے کام کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے اس کے قتل کی سنجیدہ، شفاف اور مکمل تحقیقات کے مطالبے کا اعادہ کیا۔حکام نے بتایا کہ صدر محمود عباس نے پریس کانفرنس کے بعد بائیڈن سے کہا: "حیرت انگیز۔ دیکھتے ہیں پھر۔حکام نے بتایا کہ یہ ترامیم اس وقت کی گئی ہیں جب فلسطینی فریق کی جانب سے امریکی وفد کو بائیڈن کے دورے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا گیا تھا اور اسرائیل کے بارے میں ان کے متعصبانہ بیانات جیسے کہ وہ صیہونی ہے اور مشترکہ فلسطینی-امریکی اتحاد کا اعلان کرنے اور فلسطینی تنازع کے سیاسی حل کے حوالے سے وڑن دینے میں ناکامی جیسے الزامات کے بعد مسودے میں معمولی ترامیم کی گئیں۔



