سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مدافعتی ردِ عمل، الرجی کے اسباب وعلامات

ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی قاسمی

الرجی کیا ہے؟

الرجک رد عمل کا سبب بننے والی چیز کو الرجین کہا جاتا ہے۔ جب انسان کے مدافعتی نظام پر الرجین نامی مادوں کا اثر پڑے اور وہ الرجک رد عمل کو متحرک کردیں تو اسے الرجی کہتے ہیں۔ یہ کسی بھی چیز یا کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے۔ کسی بھی شخص میں الرجی مختلف اشیاء سے ہو سکتی ہے جیسے:

  • کھانے کی چیزیں: مرچیں، اچار، مونگ پھلی وغیرہ۔
  • کیڑوں کے کاٹنے سے: مچھر، مکھی، پسو وغیرہ۔
  • مصنوعات: صابن، پرفیوم، لوشن، میک اپ کی مصنوعات۔
  • پالتو جانور: بلی، کتا، پرندے وغیرہ۔
  • کپڑے: نائیلون، مخمل وغیرہ۔
  • ادویات اور دھاتیں: نکل، سونا، اسٹیل وغیرہ۔
  • اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

    https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

الرجی کا رد عمل

الرجی سے انسان کا مدافعتی رد عمل متحرک ہوجاتا ہے۔ الرجین کے چھونے، کھانے یا سانس لینے سے الرجی ہو سکتی ہے، جو ہلکی، شدید یا جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔

جب مدافعتی نظام الرجی پیدا کرنے والے مادوں کے خلاف کام کرتا ہے تو جسم امیونوگلوبلین نامی اینٹی باڈی بناتا ہے جو ہسٹامائن نامی کیمیکل کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جیسے:

  • خارش، سوزش، سوجن
  • ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا
  • جلد پر سرخی اور خارش
  • سانس لینے میں دشواری

الرجی کے اسباب

  • موسمی تبدیلیاں اور فضا میں آلودگی
  • گرد و غبار، پالتو جانوروں کی کھال
  • کچھ خاص کھانے جیسے مونگ پھلی، انڈے، دودھ
  • کیڑوں کے کاٹنے یا ڈنک لگنے سے
  • کچھ دوائیں یا دھاتیں

الرجی کی علامات

  • چھینکیں آنا، آنکھوں سے پانی بہنا
  • آنکھوں، ناک اور گلے میں خارش
  • سانس کی خرابی، متلی
  • جلد پر سرخی، ایگزیما، داد

الرجی کی تشخیص

عام طور پر علامات سے ہی الرجی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن معالج خون، جلد اور پھیپھڑوں کے مختلف ٹیسٹ کرا سکتا ہے تاکہ اس کی درست تشخیص ہو سکے۔ الرجی کی علامات اس وقت تک موجود رہتی ہیں جب تک الرجین کے ساتھ سامنا رہتا ہے۔

الرجی کی مدت

کچھ الرجی عارضی ہوتی ہے جبکہ کچھ ہفتوں، مہینوں یا عمر بھر بھی رہ سکتی ہے۔ الرجین مادوں کے ختم ہوتے ہی الرجی کی شکایت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

الرجی کا علاج

  • الرجی پیدا کرنے والی اشیاء سے دور رہنا ہی سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
  • معالج سے مشورہ لے کر ادویات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • سوجن، خارش اور دیگر علامات کو کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامائن ادویات دی جا سکتی ہیں۔
  • بعض صورتوں میں امیونوتھراپی (ویکسین) بھی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔

اگر آپ کو الرجی کی شکایت ہے تو فوری طور پر ماہر معالج سے رجوع کریں تاکہ مناسب علاج کیا جا سکے۔

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button