قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کی فضیلت-حضرت حبیب الامتؒ
قرآن میں تدبر کیجئے
جتنی کتابیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے نازل فرمائیں ،خواہ ہمیں ان کا علم ہو یا نہ ہو ان کے صحیح اور برحق ہونے پر ہمارا یقین اور ایمان ہے،لیکن جو فضیلت وبرتری اور فوقیت قرآن کو حاصل ہے وہ کسی کتاب کو نہیں ہے۔ اللہ نے تمام انسانوں کیلئے قرآن کریم کو سرچشمہ ٔ رشدو ہدایت بنایا اب کوئی نئی شریعت اور نیا دین آنے والا نہیں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آئیں گے ۔لیکن وہ اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے۔
بلکہ شریعت محمدیہ پر ہی عمل کریں گے ۔ قرآن واحادیث سے مسائل کا استنباط کریں گے ۔ قرآن کریم سے پہلے جتنی کتابیں اللہ نے نازل کی تھیںان میں قرآن کریم کے علاوہ کوئی بھی کتاب اپنی اصل شکل میںموجود نہیں ۔قرآن کی فضیلت کیلئے صرف یہی کافی ہے کہ خود اللہ نے حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ ومعانی کو ہمارے لئے آسان کردیا ، ہماری ذمہ داری اورفریضہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ کے ساتھ معانی ومفاہیم پر بھی غور کریں۔
قرآن میں تدبر کیجئے
اللہ تعالیٰ نے قرآن سے متعلق جن باتوں کا حکم دیا ہے ، ان میں سے ایک تدبر قرآن ہے اور ایک مسلمان کیلئے اللہ کے تمام احکام کو پورا کرنا ضروری ہے، اس لئے مسلمان کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ قرآن میں تدبر کرے ، تدبر قرآن کے معنی ہیں قرآن کے معانی و مضامین میں غور کرنا ، آدمی قرآن کے معانی ومضامین میں جتنا غور وفکر کرے گا اس کے ایمان واعمال میں اتنا ہی اضافہ ہوگایہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تدبر نہ کرنے کو منافقین کا رویہ قرار دیا ،
چنا نچہ ارشاد ربانی ہے۔ ’’اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْکَانَ مِنْ عِندِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیہِ اِخْتَلاَفاً کَثِیْرًا‘‘ (النساء)’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے اگریہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے پاس سے آیا ہوتا تو اس میں بہت اختلافات پاتے۔‘‘ اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے معارف القرآن میں جو کلمات تحریر فرمائے وہ ملاحظہ ہوں، اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ فرمایا اَفَلاَ تَقْرَؤُنَ نہیں فرمایا، اس سے بظاہرایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ وہ اگر گہری نظر سے قرآن کو دیکھیں تو ان کو اس کے معانی ومضامین میں کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا اوریہ مفہوم تدبر کے عنوان سے ہی ادا ہوسکتا ہے، صرف تلاوت اور قرأت جس میں تدبر او رغور وفکر نہ ہو اس سے بہت سے اختلاف نظر آنے لگتے ہیں جو حقیقت کے خلاف ہے ۔
دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی قرآن کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب میں غور کرے لہٰذا یہ سمجھنا کہ قرآن میں تدبر کرنا صرف اماموں اور مجتہدوں ہی کیلئے ہے صحیح نہیں ہے ۔ عوام اگر قرآن کا ترجمہ اور تفسیر اپنی زبان میں پڑھ کر تدبر کریں تو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ومحبت اور آخرت کی فکر پیدا ہوگی جوکلیدی کامیابی ہے ۔ البتہ عوام کیلئے غلط فہمی اورمغالطہ سے بچنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ کسی عالم سے قرآن کو سبقاً سبقاً پڑھیں ، یہ نہ ہوسکے تو کسی مستند ومعتبر تفسیر کا مطالعہ کریں۔
مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے مذکورہ تفسیری کلمات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ معانی قرآن جانے بغیر قرآن کی تلاوت تدبر کے درجہ میںنہیں آتی ، اس لئے محض تلاوت وقرأت سے تدبر کا حکم پورا نہیں ہوسکتا۔ سورہ محمد کی آیت 24میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں غور وفکر نہ کرنے کو منافقین کی روش قرار دیا ۔چنانچہ ان کے اس رویہ پر تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَم عَلٰی قُلُوبِ اَقْفَالُھَا‘‘۔ کیا یہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں‘‘۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ معانی قرآن میں غور و فکر نہ کرنا منافقین کا طرز عمل ہے ، اور اس میںیہ تقاضا بھی پوشیدہ ہے کہ قرآن میں غور و فکر کرنا مومنین کا طرز عمل ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’کِتٰبٌ اَنْزَلْنَاہُ اِلَیْکَ مُبٰرکٌ لِیَتَدَبَّرُوا آیٰتہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُو الْاَلْبَابِ‘‘۔ (ص)یہ بابرکت کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی تاکہ (لوگ) اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں‘‘۔
حضور ﷺ کی اس حدیث سے بھی تدبر قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے جو بیہقی اور مشکوٰۃ میں ہے: حضرت عبیدہ مالکی صحابی ؓرسول ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے قرآن والو! قرآن کوتکیہ نہ بناؤ اور اس کی تلاوت کرو جیسا کہ اس کا حق ہے رات او ردن کے اوقات میں ، اور اس کو پھیلاؤ اور اسکو خوش آواز ی سے پڑھو اور اس میں غور وفکر کروتاکہ تم کامیابی کو پہنچو او راس کے ثواب میں جلدی کرو کیوں کہ اس کیلئے آخرت میں بڑا ثواب ہے۔‘‘صحابہ کرامؓ میں جو قرآن کریم زیادہ پڑھا ہوتا تھا وہ بڑا عالم ہوا کرتا تھا اسکی وجہ یہی تھی کہ وہ قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھا کرتے تھے ۔
اگر کسی جگہ سمجھنے میں دقت اور دشواری پیش آتی تو حضور ﷺ سے اس اشکال کو حل کرلیا کرتے تھے ،حضور ﷺ سے بڑ ھ کرمعلم کون ہوسکتا ہے؟ ارشاد فرمایا اَنَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا کہ مجھ کو استاد او رمعلم بنا کر بھیجا گیا۔ ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْ عَلَیْھِمْ اَیٰتِہِ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃِ۔ وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے امیوں میں ایک رسول بھیجا انہیں میں سے جوان پر اس کی آیتیں پڑھ کر سنا تا ہے ،اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کوکتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے ، نبی اکرم ﷺ الفاظ کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے معانی ومفاہم بھی بتاتے اور انکی تفسیر بھی فرماتے تھے ، آج قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی پہلے سے بھی زیادہ سخت ضرورت ہے۔ میں امت کے دو اہم مفکرین کا تجزیہ اورمشورہ عرض کررہا ہوں جواپنے اندر امت کے لئے دعوت فکر وعمل رکھتے ہیں۔ اس تجزیے اور مشورے کو مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنی کتاب وحدت امت میں تحریر کیا ہے۔
دو اہم سبق
’’شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ ،مالٹا کی چارسالہ جیل سے رہائی کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لائے توعلماء کے ایک مجمع کے سامنے آپ نے یہ اہم بات ارشاد فرمائی (جو لوگ حضرت ؒ سے واقف ہیں وہ اس سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ ان کی یہ قید وبند عام سیاسی لیڈروں جیسی قید نہ تھی ، جنگ آزادی میں اس درویش کی ساری تحریکات صرف رضائے حق سبحانہ وتعالیٰ کے لئے اورامت کی اصلاح وفلاح کے گرد گھومتی تھیں، مسافرت اورتنہائی بے کسی کے عالم میںگرفتاری کے وقت جو جملہ ان کی زبان مبارک پر آیا تھا، وہ ان کے عزم ومقصد کا پتہ دیتا ہے۔ فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ میں مصیبت میں گرفتار ہوا ، معصیت میں نہیں شیخ الہندؒ کے اس بیان سے ان کے عزم وحوصلے کا پتہ چلتا ہے۔ جیل کی تنہائیوں میں ایک روز بہت مغموم دیکھ کر بغض رفقاء نے کچھ تسلی کے الفاظ کہنا چاہے تو فرمایا : اس تکلیف کا کیا غم جو ایک دن ختم ہونے والی ہے ، غم اس کا ہے کہ یہ تکلیف و محنت اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہے یا نہیں)۔ مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد ایک رات بعد عشاء دارالعلوم میں تشریف فرما تھے ،علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا ۔ اس وقت فرمایا کہ ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔
یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ استاذ العلماء ودرویش نے 80 سال علماء کودرس دینے کے بعد آخر میں جو سبق سیکھے وہ کیا ہیں؟ فرمایا کہ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دوسبب معلوم ہوئے ۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی ، اسلئے میں وہیں سے یہ عزم لے کرآیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم لفظاً اورمعناً عام کیا جائے ، بچوں کیلئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی میں قائم کئے جائیں ، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اسکے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کیلئے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے ۔
نباض امت نے ملت مظلومہ کے مرض کی جو تشخیص اور تجویز فرمائی تھی باقی ایام زندگی میں ضعف وعلالت اور ہجوم و مشاغل کے باوجود اس کے لئے سعی پیہم فرمائی ۔ بذات خود درس قرآن شروع کرایا ، جس میں تمام علمائے شہر ،حضر ت مولانا حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ جیسے علماء بھی شریک ہوتے تھے اور عوام بھی ۔اس واقعے کے بعد حضرت ؓکی عمر ہی گنتی کے چند ایام تھے۔ آج بھی مسلمان جن بلاؤں میں مبتلا اور جن حوادث وآفات سے دوچار ہیں اگر بصیرت سے کام لیا جائے تو ان کے سب سے بڑے سبب یہی دوثابت ہوں گے ۔ قرآن کو چھوڑنا اور آپس میں لڑنا ، غور کیا جائے تو یہ آپس کی لڑائی بھی قرآن کو چھوڑنے ہی کا لازمی نتیجہ ہے ۔ قرآن پر کسی درجہ میں بھی عمل ہوتا تو یہ خانہ جنگی یہاںتک نہ پہنچتی۔‘‘ (منقول وحدتِ امت) اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بھی قرآن فہمی کا سلیقہ پیدا فرمائے۔ آمین ثم آمین! ٭



