حافظ محمد الیاس،چمٹ پاڑہ مرول ناکہ۔اندھیری
رشتے ایک ايسا لفظ ہے جس سے بہت سے لوگ ہمارے ياد کی کھڑکی پر دستک ديتے ہيں رشتے اچھے بھی ہوتے ہيں اور برے بھی کچھ ايسے ہوتے ہيں جن کے بغير ہم رہ ہی نہيں سکتے اور کچھ ايسے ہوتے ہيں جن کا نام بھی سننا ہم گوارہ نہيں کرتے رشتوں کے معاملے ميں ہر شخص کا تجربہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے رشتوں کی بہت سی اقسام ہيں ۔وہ رشتے جو اللہ تعالی کی طرف سے وديعت کيے گئے ہيں اور جن کا کوئی بدل نہیں ہے وہ ہيں والدين ، بھائی ، بہن اور والدين سے جڑے سب رشتے ، يعنی ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی ، چچا، ماموں ، پھوپھو اور خالہ ۔ يہ وہ انمول رشتے ہيں جن کی وجہ سے انسان اپنے اپ کو بہت معتبر محسوس کرتا ہے ان ميں کسی ايک کی بھی کمی ہميشہ ايک خلا کا احساس دلاتی ہے ۔
ہر ايک کا پيار کرنے کا اپنا انداز ، لاڈ اٹھانے کا اپنا طريقہ کسی کو کسی سے مماثلت نہیں آگے بڑھيں تو وہ رشتے جو والدين ، بھائی ، بہن کے بعد دل کے سب سے قريب ہوتے ہيں اور جن کے بغير زندگی کی رونقيں ماند لگتی ہيں ، وہ ہيں ، دوست ، سہيلياں پہلے تو کزنز ہی آپس ميں دوست ، سہيلیاں بن جاتے ہيں اور پھر گلی محلے ميں جس نے آپ کے ساتھ کھيل ليا وہ دوست بن گيا ، ذرا بڑے ہوئے تو سکول ميں آپ کے مزاج کے مطابق جو لگا ،اسے دوست يا سہيلی بنا ليا۔ کالج ، يونيورسٹی ميں ترجيحات بدل جاتی ہيں مگر دوستی ايسا رشتہ ہے کہ نبھ جائے تو بچپن سے جوانی اور بعض اوقات بڑھاپے تک ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔
کھيلنا، جھگڑنا، مدد (ہر اچھے ، برے کام ميں ) ، بچاؤ (والدين اور اساتذہ کی ڈانٹ سے) تائيد ، اختلاف ، منانا ، روٹھ جانا سب اس خوبصورت رشتے کا خاصہ ھے پھر ہم چلتے چلتے ايک ايسے موڑ پر پہنچتے ہيں جہاں ايک ايسا رشتہ ہماری ضرورت بن جاتا ہے جو ہمارے سکھ ، دکھ کا ساتھی ہو ، جو ہر موقعے پر ساتھ دے سکے ، جس سے آپ دل کی ہر بات کہہ سکيں۔ کچھ لوگ اسے گرل فرينڈ اور بوائے فرينڈ کے روپ ميں اپناتے ہیں جو کہ غلط اور گناہ ھے اور کچھ اسے زندگی کا ساتھی بنا ليتے ہيں یہ جائےز اور حلال ھے یہ رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کمزور بھی تين الفاظ دو انسانوں کو نکاح کے مضبوط بندھن ميں جوڑ ديتے ہيں کہ ساری زندگی وہ ايک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی گذار ليتے ہيں اور کمزور اتنا کہ تين الفاط ان دونوں کو ہميشہ کے ليے اجنبی کر ديتے ہيں۔
پيار ، محبت ، قربانی ، سمجھوتہ اور ان سب سے بڑھ کر بھروسہ اس رشتے کو قائم رکھتے ہيں اور لڑائی جھگڑا، خودغرضی انا اور شک اس رشتےکو خراب کرتے ہيں اور نکاح والے رشتے سے وجود ميں آتے ہيں وہ ننھے منے پيارے پیارے سے بچے جو اسکو نئی روشنیوں سے آشنا ۔کرتے ھیں رشتوں کی اتنی اقسام ہيں کہ اگر ہرقسم پر لکھا جائے تو پوری کتاب بن جائے مگر سب کا احاطہ کرنا شايد پھر بھی مشکل ہو استاد اور شاگرد کا رشتہ ، مالک اور ملازم کا رشتہ ، محبت کا رشتہ اور ہاں نفرت کا رشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔!! وغيرہ وغيرہ
ايک بہت اہم رشتہ جو دو انسانوں کے مابين ہو سکتتا ہے وہ ہے ادب ، احترام ، خلوص اور اپنائيت کا رشتہ ، اور اگر يہ کسی مرد اور عورت کے درميان ہو تو اس کو بہت سے لوگ غلط نگاہ سے ديکھتے ہيں اور غلط نام بھی دیتے ہيں اس لئے بھی کہ کسی بھی غیر محرم سے رشتہ گناہ ھے رشتوں کو تماشہ نہیں بنانا چاہيے اور ہر رشتے کو اس کے درجہ کے مطابق اہميت اور محبت دی جائے تو انسان ساری زندگی رشتوں ميں خودکفيل رہتا ہے رشتہ برقرار رکھنےکا ایک نکتہ یہ بھی بھت اھم ھے کہ ھم رشتوں کے تئیںہم پر جو حقوق عائد ھوتے ھیں اسے ادا کرنے والے بنیں اور دوسروں پر جو ھمارے حقوق عائد ھوتے ھیں انھیں معاف کرنے والے بنیں تو رشتوں میں کبھی بھی بگاڑ نہیں آئیگا۔



