2022 کا اہم فیصلہ معذوروں کے حقوق کے تعلق سے دہلی ہائی کوٹ کا تاریخی فیصلہ
ملک میں جسمانی طور سے معذور افراد کے تعلق سے لوگوں کا رویہ بڑا غیر انسانی اور غیر ہمدردانہ ہے
نئی دہلی ، 2 جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک میں جسمانی طور سے معذور افراد کے تعلق سے لوگوں کا رویہ بڑا غیر انسانی اور غیر ہمدردانہ ہے۔ معاشرے میں بھی معذور لوگوں کو برابری کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ بہت ہوا تو انہیں رحم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سرکاری نیم سرکاری اور نجی ادارے بھی معذوروں کو ان کا حق دینے میں ا?نا کانی کرتے ہیں۔ بیمہ کمپنیوں کو بس اپنے منافع کی فکر رہتی ہے۔ معذوروں کے تعلق سے وہ قوانین اور ضابطوں کو طاق پر رکھے ہوئے ہیں۔2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں معذور افراد کی تعداد 26.80 ملین ہے۔ جو ملک کی مجموعی آبادی کا 2.21 فیصد ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ نہ معاشرے اور نہ سرکار نے ان کی مخصوص ضروریات کا خیال رکھا اور نہ انہیں زندگی کے عام دھارے کا حصہ بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔ معذوروں کو سب سے زیادہ نظر انداز جس شعبے میں کیا جاتا ہے وہ ہے بیمہ سیکٹر۔ ملک کی بیمہ کمپنیاں معذور افراد کو ہیلتھ کور دینے سے صاف ان کار کر دیتی ہیں۔ معذور فرد کتنا ہی صحت مند اور طبی لحاظ سے کتنا ہی چوکس کیوں نہ ہو بیمہ کمپنیوں کے پاس اس کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔
جبکہ معذور اور غیر معذور کے درمیان امتیاز نہیں برتے جانے کے تعلق سے قوانین بھی وجود میں ہیں اور بین الاقوامی ضابطے بھی۔ بیمنہ کمپنیوں کی اس غیر اخلاقی حرکت کو انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا(آئی آر ڈی اے آئی) کی شہ ملی ہوئی ہے۔ آئی آر ڈی اے آئی سرکاری ادارہ ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں ادا کرتا ہے بلکہ بیمہ کمپنیوں کے سہولت کار کے طور پر کام کرتا نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے سماج کا یہ طبقہ سماجی انصاف سے محروم رہتا ہے۔میڈیا بھی بے حسی اور غیر ہمدردی کے اسی دھارے میں بہہ رہا ہے اسی لئے اس نے 13 دسمبر 2022 کے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نظر انداز کیا جو معذوروں کے حقوق کے تعلق سے تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ سال 2022 جاتے جاتے ملک کے معذوروں کو ان کے بنیادی حقوق اس عدالتی فیصلے کی صورت میں دے گیا۔ یہ عدالتی فیصلہ معذوروں کا معیار زندگی بہتر کرنے میں بہت معاون ثابت ہونے وا لا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ان 26.80 ملین افراد کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے جنہیں اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بارے میں جاننے سے پہلے اس کیس کے پس منظر میں جانا ضروری ہے۔ قصہ ہے سوربھ نامی شخص کا جو انویسٹمنٹ انالسٹ اور کنسلٹنٹ کے طور پر شاندار زندگی گزار رہے تھے لیکن سن 2011 میں ان کی زندگی ایک حادثے نے بدل کر رکھ دی۔ حادثے نے 26 سالہ سوربھ کی ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچایا۔ان کے جسمانی اعضا ایسے ناکارہ ہوئے کہ ان کا وجود وہیل چیئر تک سمٹ کر رہ گیا۔ وہ پوری طرح معذور ہو کر رہ گئے۔ حادثے سے پہلے کبھی انہوں نے اسپتال کا منھ تک نہیں دیکھا تھا۔انہوں نے کسی بیمہ کمپنی سے کوئی ہیلتھ کور نہیں لیا تھا۔ تین برس کے علاج کے بعد سوربھ کی مالی حالت کمزور ہو گئی۔
طبی اخراجات کو دیکھتے ہوئے سوربھ اور ان کے والد نے بیمہ کمپنیوں سے رابطہ قائم کیا۔ لیکن درجنوں سرکاری اور نجی کمپنیوں کے دفتروں کے چکر کاٹنے پر انہیں انکار ہی سننے کو ملا۔ کوئی بیمہ کمپنی سوربھ کو ہیلتھ کور دینے کو تیار نہیں ہوئی۔ بیمہ کمپنیوں کے اہلکار یہ سنتے ہی کہ سوربھ معزور ہے پالیسی دینے سے صاف ان کار کر دیتے تھے۔ ان کی صحت کا اسٹیٹس جاننے کے لئے کمپنیاں میڈیکل ٹیسٹ تک کرانے کو تیار نہیں تھیں۔ سوربھ نے محکمہ معذورین کے چیف کمشنر کے یہاں شکایت درج کرائی۔ انہوں نے پوسٹ مین کا سا برتاؤ کرتے ہوئے وہ شکایت آئی آر ڈی اے آئی کو فارورڈ کر دی۔
آئی آر ڈی اے آئی نے بھی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور اس شکایت کو بیمہ کمپنیوں کے پاس بھیج دیا۔ بیمہ کمپنیوں نے وہی جواب آئی آر ڈی اے آئی کو بھی دے دیا جو وہ پہلے سوربھ کو دے چکی تھیں۔ آئی آر ڈی اے آئی نے وہ جواب سوربھ کو فارورڈ کر دیا۔ بیمہ کمپنیاں پالیسی جاری کرتے وقت اپنے مالی فائدے کا پہلو دھیان میں رکھتی ہیں۔ بیمہ کمپنیاں 2016 اور 2020 کے ضابطوں کو پوری طرح نظر انداز کر دیتی ہیں جو معذوروں کو ہیلتھ کور مہیا کرانے کے تعلق سے ہے۔



