تلنگانہ کی خبریںسرورق

آبپاشی ‘ دھرانی ‘ سیاحت‘ افزائش مویشیان اور محکمہ تعلیم کی اہم فائیلس غائب

بعض اعلی عہدیداروں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ۔ فائیلوں کی موجودگی کے تعلق سے لاعلمی کا اظہار ۔ حکومت سے سخت موقف اختیار کئے جانے کا امکان

حیدرآبا:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقتدار کو مستقل تصور کرتے ہوئے بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں میں ملوث رہنے والوں کی غلط کاریاں اب اپنے کرتوتوں کی پردہ پوشی کیلئے شروع ہوگئی ہیں ۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق سرکاری فائیلوں کو ہی غائب کرنے کے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد بیشتر محکمہ جات میں ہوئی بے قاعدگیوں وبدعنوانیوں کی پردہ پوشی کیلئے سرکاری فائیلس کے غائب ہونے کی شکایات عام ہونے لگی ہیں اور اب جو سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے اس کے مطابق ریاست میں دھرانی پورٹل کے آغاز کے احکام سے متعلق فائیلس بھی غائب ہیں اور محکمہ آبپاشی سے کئی اہم فائیلس غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے انتخابات سے قبل بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کا تذکرہ کرکے ریاست میں کانگریس کو اقتدار ملنے پر دھرانی پورٹل کے ذریعہ کی جانے والی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف کاروائی ‘ کالیشورم پراجکٹ میں بدعنوانیوں کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات اور کارروائی کا اعلان کیا تھا اور تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار ملتے ہی مختلف محکمہ جات سے فائیلس کے سرقہ اور منتقلی کی شکایات منظر عام پر آنے لگی تھیں اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کی جانب سے ان شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے لیکن آج ہوئے انکشاف نے عہدیداروں میں خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے کیونکہ جن محکمہ جات سے اب تک فائیلس غائب ہونے کی اطلاعات تھیں ان محکمہ جات کے عہدیداروں اور ملازمین سے استفسار پر وہ برسرعام اعلیٰ عہدیداروں کے نام لینے لگے ہیں اور بلا خوف و خطر یہ کہہ رہے ہیں کہ جو دستاویزات غائب ہیں یا غائب کردیئے گئے ہیں وہ اعلیٰ عہدیداروں کی نگرانی میں ہوا کرتے تھے جو اب نہیں مل رہے ہیں ۔

دھرانی پورٹل کے نقائص کی جانچ کیلئے حکومت سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے جب محکمہ مال سے دھرانی پورٹل کی تیاری کیلئے جو احکام جاری کئے گئے ہیں اس سے قبل حاصل کردہ تجاویز اور مشاورت کی فائیلس جب طلب کی تو انہیں یہ کہہ دیا گیا کہ محکمہ کے پاس یہ فائیلس دستیاب نہیں ہیں اور ان فائیلس کے متعلق عہدیداروں کو کوئی علم نہیں ہے۔ دفاتر معتمدی میں ابھی دھرانی پورٹل سے متعلق فائیلس کی عدم موجوگی کی تفصیلات حاصل کی جا رہی تھیں کہ آبپاشی عہدیداروں نے اطلاع دی کہ کئی بڑے پراجکٹس کو منظوری دینے سے قبل تیار کی گئی فائیلس ان کے پاس نہیں مل پا رہی ہیں اور ان کے ماتحت عملہ سے استفسار پر کہا جا رہاہے کہ یہ فائیلس اعلیٰ عہدیداروں کے پاس ہی رہا کرتی تھیں اوران فائیلس تک کسی کورسائی حاصل نہیں تھی اسی لئے وہ ان کے متعلق کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ حکومت سے جن معاملات کی تحقیقات کے اقدامات کئے جار ہے ہیں ان سے متعلق دستاویزات کی عدم دستیابی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے لیکن دیانتدار عہدیداروں کا کہناہے کہ اگر فائیلیں برآمد نہیں ہوتی ہیں تو مجاز عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی گنجائش پیدا ہوجائے گی اسی لئے حکومت کے احکام کے مطابق سختی سے ان فائیلس کو پیش کرنے ہدایات دی جا رہی ہیں ۔ اگر یہ فائیلس دستیاب نہیں ہوتی ہیں تو بڑے پیمانے پر کاروائیاں بھی شروع ہوسکتی ہیں۔

انتخابی نتائج کے ساتھ ہی مختلف محکمہ جات سے فائیلوں کو غائب کرنے کی شکایات ملی تھیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ افزائش مویشیاں ‘ محکمہ بی سی ویلفیر ‘ محکمہ سیاحت اور محکمہ آبپاشی کے بعد اب دھرانی پورٹل کی فائیلوں کے غائب کئے جانے کی اطلاعات نے دفاتر معتمدی میں ہلچل پیدا کردی ہے ۔

حکومت سے جلد فائیلوں کی گمشدگی کی شکایات کو اکٹھا کرکے کارروائی کے متعلق بھی کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے پر غور کیا جاسکتا ہے تاکہ جو عہدیدار ان فائیلوں کی گمشدگی میں ملوث ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ گذشتہ دنوں چیف سیکریٹری نے آئی اے ایس عہدیدار و اسپیشل چیف سیکریٹری اروند کمار کو میمو جاری کرکے بغیر منظوری کے فامولہ ۔ای کمپنی کو رقومات کی اجرائی پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ بعد ازاں انکشاف ہوا تھا کہ محکمہ بلدی نظم ونسق میں متعلقہ وزیر کی دستخط کے بغیر والی فائل ملی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button