کرکٹ میں کپتانوں کے غلط فیصلہ پر اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑی ریکارڈ سے محروم-سلام بن عثمان
محمد اظہرالدین ہندوستان کے کھلاڑی تھے۔ وہ اپنی چوتھی سنچری کے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کرنے میدان میں انگلینڈ ٹیم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے تھے۔ مگر افسوس۔
سلام بن عثمان
کرکٹ کے شیدائی دنیا کے ہر ملک میں موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہے۔ یہاں تک کہ کئی ممالک میں کرکٹ کو قومی کھیل تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر افسوس ہوتا ہے ان ٹیم کے کپتانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے کرکٹ کے شیدائی بہت مایوس ہوجاتے ہیں۔ کرکٹ کے شائقین کو اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے جب کپتان میچ کے فیصلہ سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ میچ کا نتیجہ برابر پر ختم ہونا ہے۔ اس وقت اس کے ٹیم اور اسی کے ملک کا کھلاڑی ایک ایسے ریکارڈ تک پہنچتا ہے، جہاں اس کھلاڑی کا ریکارڈ بھی بنتا ہے ساتھ ہی ملک کی شان بھی دوبالا ہو جاتی ہے۔
مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے۔ جب ٹیم کا کھلاڑی اپنے ریکارڈ کے قریب رہتا ہے اور اسی وقت میچ کی اننگز کو کپتان ڈکلیئر کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک بہترین بلے باز اپنی سنچری، ڈبل سنچری یا پھر اپنے ملک کے لیے پہلی مرتبہ کھیلتے ہوئے مسلسل چوتھی سنچری کے قریب کھڑا ہے اور کپتان کے اننگز ڈکلیئر کے غلط فیصلہ پر کھلاڑی کو پویلین کی طرف خاموشی سے جانا پڑتا ہے۔ جب کہ کپتان کو معلوم ہوتا کہ میچ کا فیصلہ برابری پر ختم ہونا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں اسٹیڈیم میں بیٹھے کرکٹ کے شیدائی ایک بہترین بلے باز کی سنچری اور ڈبل سنچری سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اسٹیڈیم میں بیٹھے اس ملک کے کرکٹ شائقین روتے بلکتے اسٹیڈیم سے باہر چلے جاتے ہیں۔ جبکہ کرکٹ شائقین اس کھلاڑی کی سنچری اور ڈبل سنچری کے جشن کی تیاری میں کھڑے رہتے ہیں۔ وہ بلے باز اپنے ریکارڈ کے اتنے قریب رہتا ہے کہ اس وقت کپتان دس منٹ کا بھی صبر نہیں کر سکتا کہ میرے ملک کے کھلاڑی کا سنچری ریکارڈ بن جائے، اس کے بعد اننگ کے خاتمہ کا اعلان کروں۔ بغیر سوچے سمجھے ذہنی مرض میں مبتلا کپتان اپنی آن بان اور شان کے ساتھ اننگز کے خاتمہ کا اعلان کرتا ہے۔ اس وقت اسے ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ میرے ملک کا کھلاڑی ملک کے لیے ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے جا رہا ہے۔
ابھی حال ہی کی بات ہے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیائی کھلاڑی عثمان خواجہ بہترین بلے بازی کرتے ہوئے 195 رنز تک پہنچ گئے۔ مگر آسٹریلیا کے کپتان کمنز نے اننگز کے خاتمہ کا اعلان۔ کردیا۔ عثمان خواجہ ان کے ہی ملک کا کھلاڑی ہے۔ ان کی ٹیم کا بہترین بلے باز ہے، نہ کہ مخالف ٹیم کا کوئی بلے باز ہے۔ کپتان نے صرف دس منٹ انتظار کر لیا ہوتا تو عثمان خواجہ کا ایک ریکارڈ بن جاتا۔ اور آسٹریلیا کا نام بھی ہوجاتا۔ جبکہ میچ برابری یعنی ڈرا ہوگیا۔
1960 میں ویسٹ انڈیز کے کپتان گیری الیگزینڈر نے بھی اپنے ٹیم کے کھلاڑی فرینک واریل کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ فرینک کی بہترین بلے بازی کے ذریعے انھوں نے 197 رنز بنا لیے تھے۔ ان کی ڈبل سنچری کے لیے صرف تین رنز کی ضرورت تھی۔ مگر ویسٹ انڈیز کے کپتان نے اننگز کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ اسٹیڈیم میں بیٹھے کرکٹ شائقین حیران ہو گیے۔ اسی طرح سال 2004 میں ٹیم انڈیا پاکستان کے دورہ پر تھی۔ ملتان ٹیسٹ میچ کے دوران سچن ٹینڈولکر 194 رنز پر کھیل رہے تھے۔ اسٹیڈیم میں بیٹھے کرکٹ شائقین بڑی ہی بیتابی سے سچن کی ڈبل سنچری کا انتظار کر رہے تھے۔ اس وقت ٹیم انڈیا کے کپتان راہل دراوڑ نے اننگز کے خاتمے کا اعلان کردیا۔
سال 1985 کی بات ہے انگلینڈ ٹیم کا دورہ ہندوستان میں پانچ ٹیسٹ میچوں کا تھا۔ ہندوستان کو اس وقت شروع کے دو ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا ہوا تھا۔ ٹیم انڈیا پر انگلینڈ ٹیم پوری طرح حاوی ہو چکی تھی۔ ٹیم انڈیا کے نامور بلے باز بھی کچھ خاص کمال نہیں دکھا رہے تھے۔ اس مشکل وقت پر محمد اظہرالدین کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ محمد اظہرالدین کو پانچویں نمبر پر بلے بازی کرنے کا موقع ملا۔ انھوں نے اپنی پہلی اننگ میں 47 رنز بنائے۔ دوسری اننگز میں 110 رنز بنائے یہ ان کی پہلی سنچری تھی۔ اس کے بعد 105 رنز کی بہترین بلے بازی کرتے ہوئے دوسری سنچری بنائے۔ اس کے بعد انھوں نے تیسری مسلسل سنچری میں 122 رنز بنائے اسی ٹیسٹ میں ان کی چوتھی سنچری کے بالکل قریب تھے اور ٹیم انڈیا کا نام اپنی چوتھی مسلسل سنچری کے ساتھ روشن کرنے جا رہے تھے کہ اسی وقت ہندوستان کے مایہ ناز کپتان سنیل گواسکر نے اننگز کے خاتمے کا اعلان کردیا۔
محمد اظہرالدین ہندوستان کے کھلاڑی تھے۔ وہ اپنی چوتھی سنچری کے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کرنے میدان میں انگلینڈ ٹیم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے تھے۔ مگر افسوس۔۔۔!!! کانپور کے گرین پارک اسٹیڈیم میں بیٹھے کرکٹ شائقین روتے بلکتے ہوئے بہت ہی مایوسی کے ساتھ اسٹیڈیم کے باہر چلے گئے۔ کانپور کے کرکٹ شائقین اظہرالدین کی چوتھی مسلسل ٹیسٹ سنچری جشن منانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ مگر وہی ہوا ایک مرتبہ پھر کپتان کے غلط فیصلہ کی وجہ سے کانپور ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے شیدائی کو مایوسی ہوئی۔ اظہرالدین کی چوتھی مسلسل ٹیسٹ سنچری دیکھنے اور جشن سے محروم ہونا پڑا۔ جبکہ اس ٹیسٹ کو میچ برابری پر ختم ہونا یکطرفہ تھا۔۔۔۔۔



