قومی خبریں

مدھیہ پردیش کے کھرگون میں بچے کو بنایا فساد کا ملزم، 2.9 لاکھ کا نوٹس بھیجا

بھوپال ، 19اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مدھیہ پردیش کے کھرگون میں آٹھویں جماعت میں پڑھنے والے ایک 12 سالہ بچے کو فسادات میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے 2.9 لاکھ روپے ادا کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ وہیں، بچے کے والد کالو خانسے 4.8 لاکھ روپے معاوضہ طلب کیا گیا ہے۔خان یومیہ مزدور ہیں اور کلیمز ٹریبونل نے یہ کارروائی ایک خاتون کی شکایت کے بعد کی ہے۔اس کارروائی کے حوالے سے بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ نوٹس ملنے کے بعد سے ان کا بیٹا صدمہ میں ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ جبکہ والد کالو خان نے کہا کہ میرا بیٹا نابالغ ہے، جب فساد ہوا تو ہم سو رہے تھے۔ ہمیں انصاف چاہیے۔خیال رہے کہ کھرگون میں رام نومی کے موقع پر تالاب چوک سے جلوس نکالا گیا تھا۔

اس دوران فرقہ وارانہ تصادُم ہوا اور کئی مقامات پر پتھراؤ اور آگ زنی بھی کی گئی۔ کئی لوگوں کی املاک کوبھی شرپسند بھیڑ نے سخت نقصان پہنچایا۔ حکومت نے فسادات میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے ایک ٹریبونل تشکیل دیا۔ فسادات متاثرین کی شکایت پر کئی لوگوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔دراصل اپریل میں فسادات کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا کہ جس نے بھی پتھراؤ کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا انہیں سزا دی جائے گی، تاہم ان سے سرکاری یا نجی جائیداد برآمد بھی کی جائے گی۔ چنانچہ ایک خاتون کی شکایت پر ایک 12 سالہ بچے کو نوٹس بھیجا گیا ہے، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ 10 اپریل کو رام نومی کے دن ایک ہجوم کے ذریعہ اس کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

بچے کے والدین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالت نے انہیں دعویٰ اتھارٹی کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے ان کے دعوے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہی معاملہ دیوانی کا ہے۔ وکیل اشعر علی وارثی نے بتایا کہ ٹریبونل نے قانون کے مینڈیٹ کو نافذ کیے بغیر منمانی سے کام کیا۔ جب لڑکے نے ٹربیونل کے سامنے اپنا اعتراض دائر کیا تو اسے ضابطہ دیوانی کی مبہم بنیادوں پر خارج کر دیا گیا۔اس واقعہ پر کانگریس کے ترجمان کے کے مشرا نے کہاکہ ٹریبونل بی جے پی کی توسیعی شاخ کی طرح کام کر رہا ہے۔ وہ 12 سال کے بچے کو نوٹس کیسے جاری کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button