نیویارک:(اردودنیا/ایجنسیاں)نوبیل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی کے شادی سے متعلق حالیہ بیان پر جہاں بحث جاری تھی وہیں ان کے والد نے ملالہ کے بیان کی وضاحت کی ہے۔ملالہ نے برطانوی فیشن میگزین برٹش ووگ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اب تک یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنی ہے؟ اگر آپ کسی شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شادی کے کاغذات پر دستخط کرنا کیوں ضروری ہے؟ صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔
ملالہ کے اس انٹرویو سے متعلق پاکستان کے شہر پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی سے اس بارے میں سوال کیا۔ شہاب الدین پوپلزئی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ملالہ کے والد کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ محترم جناب ضیاء الدین یوسف زئی صاحب! کل سے سوشل میڈیا پر ایک خبر زیرِ گردش ہے کہ آپ کی بیٹی نے رشتہ ازدواج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کرنے سے بہتر ہے کہ پارٹنر شپ کی جائے نہ کہ نکاح۔
مفتی پوپلزئی نے ضیاالدین یوسف زئی کو کہا کہ ملالہ کے بیان سے ہم سب شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔ آپ وضاحت فرمائیں۔ملالہ کے والد نے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے سوال پر کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کے بقول میڈیا اور سوشل میڈیا نے ان کی بیٹی کے انٹرویو کے اقتباس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔
ملالہ یوسف زئی برٹش ووگ میگزین کے جولائی میں شائع ہونے والے شمارے کی سرورق کی زینت بنیں گی۔ انہوں نے اس میگزین سے وابستہ صحافی سیرین کیل کو ایک تفصیلی انٹرویو بھی دیا ہے۔ انٹرویو میں ملالہ نے پشتون ثقافت، ایپل ٹی وی پلس کے لیے اپنی پروڈکشن کمپنی بنانے اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے تجربے پر بات کی۔ملالہ کا کہنا تھا کہ انہیں آکسفورڈ یونی ورسٹی جا کر پہلی بار اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔
دورانِ انٹرویو ملالہ نے شادی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لیے شادی کے کاغذات پر دستخط کرنا کیوں ضروری ہیں؟ صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔ ملالہ نے یہ بھی بتایا کہ دیگر ماؤں کی طرح ان کی والدہ بھی ان کے ان خیالات سے اختلاف رکھتی ہیں۔ملالہ کا انٹرویو سامنے آنے کے بعد مختلف نیوز چینلز اور ویب سائٹس پر ان کا بیان خبروں کی سرخیوں میں رہا۔
شادی سے متعلق ان کے بیان پر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی تھی اور جمعرات کو پاکستان میں ملالہ کے نام کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا تھا۔متعدد صارفین کی جانب سے ملالہ کے کلمات کو سراہا جا رہا تھا جب کہ کچھ اس بیان سے اختلاف کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔



