چارلس سوبھراج کے کئی انکشافات میں کئی بار پاکستان گیا اور مسعود اظہر سے بھی ملا قات کی
چارلس سوبھراج نے اپنے پاکستان کنکشن کے بارے میں انکشاف کیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ کئی بار پاکستان جا چکا ہے
نئی دہلی، 23دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نجی ٹی وی کے مطابق ’’بکنی کلر چارلس سوبھراج جمعہ (23 دسمبر) کو نیپال کی جیل سے باہر آگیا۔ نیپال کی حکومت نے سوبھراج کو فرانس بھیجا ہے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد چارلس سوبھراج نے ایسے کئی انکشافات کیے، جنہیں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد چارلس سوبھراج نے اپنے پاکستان کنکشن کے بارے میں انکشاف کیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ کئی بار پاکستان جا چکا ہے، اور جیش محمد کے سرابراہ مولانا مسعود ازہر سے بھی ملے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق جیل سے باہر آنے کے بعد سوبھراج نے 2003 میں نیپال کے ایک کیسینو سے اپنی گرفتاری کے بارے میں بات کی۔نیز اس نے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود ازہر کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے بارے میں بھی بات کی۔
سوبھراج نے کہا کہ 2000 سے 2003 کے درمیان اس نے پاکستان کے کئی دورے کیے اور مسعود ازہر سے ملاقات بھی کی۔چارلس سوبھراج نے کہاکہ آپ کو اس کے بارے میں پہلے سے معلوم ہے، جب مسعود ازہر کو انڈین ایئر لائنز ہائی جیکنگ کے واقعے (1999 میں) کے بعد رہا کیا گیا تھا، تو انڈین ایکسپریس نے اس وقت بھارتی حکومت کے ساتھ میرے کردار کی اطلاع دی تھی۔ جسونت سنگھ براہ راست مجھ سے رابطہ کیا، پہلے انہوں نے پیرس میں مجھ سے ملنے کے لیے ایک سفیر بھیجا، اس ملاقات اور جسونت سنگھ سے میری براہ راست بات چیت کے بعد میں نے مسعود ازہر کی جماعت حرکت الانصار کے لوگوں سے رابطہ کیا، یقینا، انہوں نے مسافروں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا، لیکن میں کامیاب ہو گیا۔
ان سے وعدہ لیا گیا کہ 11 دن تک وہ مسافروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔چارلس سوبھراج نے اس واقعہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جسونت سنگھ کو فون کیا، ان سے کہا کہ میری رائے میں 11 دن تک کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچے گا، اس لیے بھارت کے پاس مذاکرات کے لیے 11 دن تھے، درحقیقت مسافروں کو بچانے کے لیے ہندوستانی حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔سوبھراج نے کہا کہ جسونت سنگھ نے مجھے کچھ دنوں بعد فون کیا اور کہا کہ وہ مسعودازہر کے ساتھ بیٹھا ہے اور مجھ سے کہا کہ اس سے بات کروں اور اسے قائل کرنے کی کوشش کروں کہ وہ اپنے آدمیوں کو مسافروں کو چھوڑنے کا حکم دے۔ میں نے صاف انکار کر دیا، اور کہا کہ مسعود کبھی نہیں مانے گا۔ میں نے انہیں بتایا کہ مجھے خدشہ ہے کہ 11 دن کے بعد وہ کچھ مسافروں کو مارنا شروع کر دیں گے‘‘۔



