رینو کی عمر 23 سال ہے۔ لاکھوں ہندوستانی لڑکیوں کی طرح رینو کی بھی خواہش تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر خود کھڑی ہو۔ اس نے سال 2017ء میں اپنی شادی کے بعد بھی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر 2018ء میںرینو نے کولکتہ کے آر جے کر میڈیکل کالج سے جنرل نرسنگ اور مڈوائفری (GNM) کا ڈپلوما پاس کرلیا۔ اپنے شوہر اور سسرال والوں کی مخالفت کے باوجود رینو نے درگاپور کے ایک خانگی دواخانے میں بطور نرس پریکٹس شروع کردی۔
رینو کا شوہر اپنے باپ کی کرانہ کی دوکان چلاتا تھا اور اس بات کی مخالفت کرتا تھا کہ اس کی بیوی کہیں کام کرے۔ رینو یہ سونچتی رہی کہ خانگی نوکری ہے اس لیے شوہر اور سسرال والوں کو اعتراض ہے۔ اس نے کوشش کی اور پھر بالآخر رینو کو بطور نرس سرکاری دواخانے کی ملازمت مل گئی۔رینو خوش تھی۔ اب شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے اس کی ہراسانی ختم ہوجائے گی کیونکہ سرکاری نوکری مل گئی ہے۔
اتوار 5؍ جون 2022ء کی رات کا وقت تھا، رینو کی آنکھ لگ گئی تھی دن کی تھکن تھی گھر کا کام ساتھ میں نوکری دونوں سے فراغت کے بعد وہ گہری نیند میں چلی گئی۔ اخبار ٹیلی گراف کولکتہ سے شائع ہوتا ہے اس اخبار میں 7؍ جون 2022 کو اسنہاموے چکربورتی کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق اتوار کی رات جب رینو نیند میں تھی اس کے کمرے میں اس کے شوہر نے اپنے دو دوستوں کو بلایا دونوں نے رینو کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور پھر رینو کے شوہر نے ایک بڑے خنجر کی مدد سے رینو کے سیدھے ہاتھ کو کلائی کے اوپر سے کاٹ کر علیحدہ کردیا جب تکلیف اور درد کی شدت سے چلاتے ہوئے رینو نے پوچھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے تو اخباری رپورٹ کے مطابق رینو کے شوہر نے بتلایا کہ وہ رینو کا ہاتھ کاٹ کر اس کو سرکاری نوکری حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔ ظالم شوہر نے اپنی بیوی کا ہاتھ کاٹ کر اس ہاتھ کو ایک بیاگ میں رکھ کر راہ فرار اختیار کرلی۔
قارئین کرام ٹیلیگراف اخبار کی مذکورہ خبر میں دلچسپی کا سبب صرف اتنا ہی نہیں کہ ایک خاتون کو ظالم شوہر کی ہراسانی کا سامنا ہے۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ یہ دونوں میاں بیوی کسی اور مذہب کے نہیں بلکہ مذہب اسلام کے پیروکار ہیں اور خاتون کا مکمل نام رینو خاتون ہے اور اس کے شوہر شریف الشیخ عرف شیر محمد ہے۔
رینو خاتون کے والد عزیز الحق نے پولیس میں اپنے داماد کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی۔ ریپون شیخ رینو خاتون کے بڑے بھائی ہیں۔ انہوں نے بتلایا کہ ان کا ظالم بہنوئی اپنی بیوی کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کو اپنے ساتھ بیگ میں لے کر فرار ہوگیا تاکہ کٹا ہاتھ ڈاکٹرس دوبارہ جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ایسٹ بردوان کے ضلع کٹوا کی پولیس نے شکایت درج کرنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
قارئین کرام مسلم سماج میں گھریلو تشدد میں جس طرح سے خواتین کے ساتھ زیادتی کا واقعہ کولکتہ کے اخبار میں رپورٹ کیا گیا وہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ عام طور پر ملک کا تقریباً سارا مسلم معاشرہ اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ کیا مسلم کمیونٹی کے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے جب نام نہاد مسلم دانشور بڑے زور و شور کے ساتھ مسلم امت کو غیرت دلاتے ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیروں کے چکر میں پڑ کر ان کے ساتھ شادیاں کر رہی ہیں تو یہ بھی ہم مسلمانوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ ہم خود اندرون مسلم سماج خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی، ہراسانی اور استحصال کے واقعات کا سدباب کریں۔
5؍ مئی 2022ء کی بات ہے جب سید مبین احمد نے شہر حیدرآباد کے مضافاتی علاقے ونستھلی پورم میں بی ناگا راجو کا بھری سڑک پر قتل کردیا تھا کیوں کہ ناگا راجو نے سید مبین احمد کی بہن عشرین سلطانہ سے شادی کرلی تھی اور ہندو مذہب اختیار کرلیا تھا۔ (بحوالہ اخبار دکن کرانیکل ۔ 6؍ مئی 2022)
اخبار دی ہندو نے 21؍ مئی 2022 کو ایم رامو کا ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اپنے مضمون میں رامو لکھتے ہیں کہ عشرین سلطانہ اور ناگاراجو وقار آباد ضلع کے مرپلی میں گورنمنٹ جونئر کالج میں ایک ساتھ پڑھاکرتے تھے۔ 2 ہزار گھروں پر مشتمل شہر حیدرآباد سے 90 کیلو میٹر دور کے اس گائوں کی آبادی ہندو مسلم دونوں طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔
ناگاراجو کی عمر 25 برس ہے اور وہ شیڈولڈ کاسٹ طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے والد زرعی مزدور ہیں اور اس کی ایک بہن ہے۔ عشرین سلطانہ کی فیملی گھن پور گائوں میں رہتی ہے۔ جو کہ مرپلی سے 8 کیلو میٹر دور واقع ہے۔ عشرین سلطانہ کا بڑا بھائی مبین ہے اور اس کے بعد دو اور بہنیں اور سب سے چھوٹی بہن عشرین ہے۔ گورنمنٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد دونوں الگ الگ اداروں سے اپنے تعلیمی سفر کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ عشرین سلطانہ ایک خانگی کالج سے گریجویشن کی تعلیم مکمل کرلیتی ہے اور ایک دفتر میں خانگی ملازمت شروع کردیتی ہے۔
عشرین کے والد کی صحت خراب ہونے کے سبب گھر کی کفالت اس کا بڑا بھائی مبین ہی سنبھال لیتا ہے۔ مبین کی مصروفیات کیا تھیں وہ بھی جان لیجئے وہ بنڈی پر پھل فروخت کر کے اپنے لیے ذریعہ معاش پیدا کر رہا تھا۔ اسی طرح کے کاروبار کے ذریعہ مبین نے اپنی دو بہنوں کی شادی انجام دے دی تھیں اور اب مبین چاہتا تھا کہ ا؎پنی چھوٹی بہن عشرین سلطانہ کی بھی شادی کردے تاکہ بہنوں کی ذمہ داری پوری ہونے کے بعد وہ خود شادی کرسکے۔ چار برس پہلے عشرین کے والد کا بھی انتقال ہوگیا تھا اور مبین ہی پورا گھر کا سرپرست بن گیا تھا۔
قارئین کرام اندازہ لگائیں کہ مسلمان لڑکی کی عمر 25 برس ہونے آرہی تھی اور ابھی تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اب مسلم معاشرے میں لڑکیوں کی شادیاں کسی قدر آسان ہیں آپ ہی اندازہ لگالیں؟
مسلم معاشرہ شہر کا ہو یا دیہات کا وہ تعلیم کی اہمیت کو تو سمجھ گیا ہے گھر سے 8 کیلو میٹر دور بھی کالج ہے تو مسلم لڑکیوں کو حصول تعلیم کے لیے بھجوایا جارہا ہے لیکن دین اسلام کی جو تعلیم ہمارے گھروں میں بچوں کی تربیت کے دوران دی جانی چاہیے وہ اس کی اہمیت گائوں میں بھی اور شہرں میں بھی بہت سارے لوگ بھول گئے۔ ہمارے بچوں کو یہ بھی سمجھ میں آگیا کہ حصول تعلیم کے بعد گھر کے اخراجات سنبھالنے کے لیے گھر والوں کا ہاتھ بٹانے کے لیے نوکری کرنا بھی ضروری ہے۔ لیکن ہم اپنے بچوں کو یہ تعلیم نہیں دے سکے کہ شادی میں تاخیر ہو یا مشکلات لیکن مذہب اسلام، دائرۂ اسلام سے باہر کسی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
ذرا ٹھنڈے دماغ سے غور کریں مسلم سماج میں شادیاں ہو بھی جاتی ہیں تب بھی لڑکیوں کی زندگی محفوظ نہیں۔ والدین ، سرپرست اور لڑکیاں خوف کے سائے میں زندگی بسر کرتی ہیں۔ شادیوں میں تاخیر ہو رہی تب بھی مسلم لڑکیاں محفوظ نہیں۔ ان کے قدم غیروں کے دروازوں پر پڑ رہے ہیں۔
جہاں تک تربیت کا سوال ہے تو میسور کے سیشن کورٹ جج ایم ایل رگھوناتھ نے ایک تلخ حقیقت پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اخبار انڈین ایکسپریس میں 28؍ مئی 2022ء کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے سماج میں انسٹا نوڈلس کی طرح Insta Divorce کا تصور بڑھتا جارہا ہے۔
پرنسپال ڈسٹرکٹ جج رگھوناتھ نے بتلایا کہ جب وہ بیلاری ڈسٹرکٹ جج تھے تو ان کے روبرو طلاق کا ایک کیس آیا جہاں پر شوہر اپنی بیوی سے اس لیے طلاق لینا چاہتا تھا کہ اس کی بیوی صرف Maggi Noodles پکایا کرتی تھی کیونکہ اس کو میگی نوڈلس کے علاوہ دوسری کوئی بھی چیز پکانا نہیں آتا تھا۔ صبح ناشتے میں نوڈلس اور تو اور دوپہر اور رات کے کھانے میں بھی بیوی صرف نوڈلس بنایا کرتی تھی۔ بیوی کی اسی عادت پر بالآخر باہمی رضامندی سے میاں بیوی میں طلاق ہوگئی۔
میاں بیوی کے درمیان طلاق کی شرح کس قدر بڑھ گئی اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیشن جج رگھوناتھ نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق کے مطالبہ کے کیس اس قدر بڑھ گئے ہیں۔ عدالتیں چاہتی ہیں کہ میاں بیوی کم سے کم ایک برس ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں اس کے بعد بھی حالات ٹھیک نہ ہوں تو طلاق کے بارے میں سونچیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایسا قانون نہیں ہو تو پھر شادی خانوں سے لوگ راست طلاق لینے کی عرضیاں داخل کرنے لگیں گے۔
کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے بچے سن بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی جنسی جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہماری لڑکیوں کی بڑی تعداد میں بلوغت کو پہنچنے کے بعد بھی شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہماری لڑکیاں خاصی تعداد میں غیر مسلم لڑکوں سے بھی شادی کے لیے آمادہ ہو تی جارہی ہیں اور مسلم سماج اپنے احتساب سے بے پرواہ ہوکر غیروں کی سازش کا رونا رو رہا ہے۔
نکاح اور شادیوں میں حائل سماجی، معاشرتی اور طبقاتی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ اصل مسئلہ جس پر قوم کو فوری توجہ دینی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے بچے اپنی غذائی عادات، ماحول اور صحبت کے زیر اثر سن بلوغت کی روایاتی عمر سے بہت پہلے ہی جنسی طور پر فعال ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں دائرۂ اسلام میں رہتے ہوئے ہر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاکر انفرادی اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اس حوالے سے فکر کرنے اور اپنے حصہ کی شمع جلانے کی توفیق عطا فرمائے۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



