بین الاقوامی خبریں

جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت پر مبنی انسان نما مخلوق AI ہر میدان میں چھاتا ہوا

جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت پر مبنی انسان نما مخلوق نے یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر خود کا اندراج کرا رکھا

سیول، 26ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت پر مبنی انسان نما مخلوق نے یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر خود کا اندراج کرا رکھا ہے، بڑی کمپنیوں میں انٹرن شپ کر رہی ہیں اور لائیو ٹیلی ویژن پروگراموں میں باقاعدگی سے نظر آ رہی ہیں۔اس کا چہرہ ڈیپ فیک ہے، جسم اُسی قسم کے خد و خال کے حامل اداکاروں سے ملتا جلتا ہے۔ لیکن وہ گاتی ہے، خبریں پڑھتی ہے، اور ٹی وی پر لگژری کپڑے بیچتی ہے کیونکہ AI روبوٹ جنوبی کوریا میں معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ بن چُکے ہیں۔جنوبی کوریا کے سب سے زیادہ فعال ورچوئل انسانوں میں سے ایک Zaein سے ملیں، جسے  ایک مصنوعی ذہانت کی کمپنی Pulse9 نے بنایا ہے۔ یہ کمپنی کارپوریٹ خیالات کو حقیقت بنانے کا کام انجام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایسا شاہکار تیار کرچُکی ہے جو کمپنی کے لیے ایک کامل ملازم کی حیثیت رکھتا ہے۔

Pulse9 نے جنوبی کوریا کے کچھ بڑے گروہوں کے لیے ڈیجیٹل روبوٹ بنائے ہیں، جن میں Shinsegae بھی شامل ہے۔ اس جیسی انسان نما تخلیقات کی گلوبل مارکیٹ سن 2030 تک 527 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔جنوبی کوریا میں AI ٹیکنالوجی کے روبوٹس نے نہ صرف یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر داخلہ لیا ہے بلکہ یہ بڑی کمپنیوں میں تربیتی پروگراموں کا حصہ بنے ہیں اورکھانے سے لے کر لگژری ہینڈ بیگ تک کی مصنوعات کی فروخت کے لائیو ٹیلی ویژن پروگراموں میں باقاعدگی سے نظر آتے ہیں۔ تاہم پلس 9 کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ کمپنی کے سربراہ پارک جی ایون نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے انسانی استعمال کو وسیع تر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔زین کا چہرہ ڈیپ لرننگ انیلیسس‘ یا گہرے سیکھنے کے تجزیے کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

یہ ایک AI طریقہ کار ہے، جو کمپیوٹر کو نہایت پیچیدہ ڈیٹا پروسس کرنا سکھاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران K-pop میوزک گروپ کے چند چہروں کو اسی طریقہ کار سے تیار کیا گیا۔ گہری آنکھوں اور خصوصی نقوش، صاف جلد اور حقیقی انسانی شخصیت سے قریب ترین شکل کے ساتھ تیار کیے جانے والے یہ اداکار ڈیپ فیک کی مدد سے کارآمد ہو جاتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک اداکار سے اُس وقت ملاقات کی جب وہ جنوبی کوریا کے براڈکاسٹر ایس بی ایس کے  مارننگ نیوز کے لائیو پروگرام میں زین کے طور پر رپورٹ دینے کی تیاری کر رہی تھی۔ کمپنی کی پالیسی کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے والی اداکارہ نے کہا کہ میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لیے ایک اچھا عمل ہو سکتا ہے جو مشہور شخصیت بننا چاہتے ہیں اور یہی چیز مجھے بھی پسند ہے۔

Pulse9  کے نمائندے نے کہا کہ تمام انسانی اداکاروں کی شناخت چھپائی گئی ہے اور ان کے اصلی چہرے نہیں دکھائے گئے ہیں۔ اُدھر اپنے پروفائلز کو پوشیدہ رکھنے کے سخت اقدامات کے باوجود اداکارہ نے کہا کہ ایک ورچوئل انسان کے طور پر کام کرنے سے ان کے لیے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ Zaein کا کہنا تھا کہ عام طور پربہت سارے لوگ اپنے نوعمروں اور نوجوانوں میں K-pop کے آئیڈیل بن جاتے ہیں اور میں اس عمر سے گزر چکی ہوں، لیکن اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا اچھا لگتا ہے۔ اس اداکارہ نے اے ایف پی کو بتایا، ”میں ایک انسان کے طور پر کام کرنے کی کوشش کرنا پسند کروں گی اگر میں اپنی آواز کو اچھی طرح سے سنبھال سکوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو میں حقیقی زندگی میں نہیں کر سکتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button