بین الاقوامی خبریں

شام کے پناہ گزین کیمپ کے بچوں پر داعش کے نظریات کی گہری چھاپ

نیویارک:(اردودنیا/ایجنسیاں)اگرآپ صحافی ہیں اور آپ کا شام کے شمال میں واقع الہول کیمپ جانا ہو، تو آپ کا سامنا کچی گلیوں میں نقلی تلواروں اور سیاہ بینروں سے کھیلتے اور مٹی میں لوٹتے بچوں سے ضرور ہوگا۔ عسکریت پسند گروپ داعش کے انداز میں لڑائی کا ڈرامہ انہیں کھیل کے لئے میسر واحد طریقہ ہے کیونکہ ان میں سے شاید ہی کوئی لکھنا پڑھنا جانتا ہو۔ ان کے پاس علم ہے تو وہ جو داعش کے بارے میں ان کی ماؤں نے انہیں دیا ہے۔

دو برس سے زیادہ ہو گئے، داعش کی خود ساختہ خلافت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ اب دو برس سے زیادہ عرصے سے داعش سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے کوئی 27 ہزار بچے اس الہول کیمپ میں خستہ حالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو ابھی 13 برس سے بھی کم عمر ہیں۔ ان کا بچپن بے گانگی اور بے یقینی میں گزر رہا ہے،نہ اسکول نہ کھیلنے کی کوئی جگہ، نہ ہی ان کی حالت سدھارنے میں دنیا کی کوئی دلچسپی۔

ان کے پاس ہے تو بس ایک ادارہ۔ داعش کی باقیات، کارندوں اور ہمدردوں کا وہ گروپ جو کیمپ کے اندر ہی موجود ہے۔ ایسے ہی خفیہ اور خاموش سیل مشرقی شام میں بھی موجود ہیں اور دوبارہ ابھرنے کے موقع کی تلاش میں ایک نچلے درجے کی بغاوت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، کرد حکام اور امدادی گروپوں کو خدشہ ہے کہ اس کیمپ سے عسکریت پسندوں کی ایک نئی کھیپ نکلے گی۔

وہ ان لوگوں کے آبائی ملکوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ان خواتین اور بچوں کو واپس لے لیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کے آبائی ملکوں کی حکومتیں بھی ان بچوں کو تحفظ دینے کی بجائے انہیں خطرہ تصور کرتی ہیں۔سونیا خوش سیو دی چلڈرن نامی تنظیم کی شام کے لئے رسپونس ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں ایک چار سالہ بچے کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ اسے تحفظ چاہیے، تعلیم چاہیے۔اس کیمپ میں جس میں داخلے پر پابندی ہے، تقریباً ایک مربع میل تک قطار اندر قطار خیمے نصب ہیں۔

حالات بہت مخدوش ہیں۔ بہت سے خاندان ایک ہی جگہ رہنے پر مجبور ہیں۔ طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صحت و صفائی اور صاف پانی تک رسائی بہت محدود ہے۔ گیس کے اسٹوو استعمال کرنے سے اکثر آگ بھی لگ جاتی ہے۔50 ہزار کے لگ بھگ شامی اور عراقی یہاں آباد ہیں۔ ان میں 20 ہزار کے قریب بچے ہیں۔

اکثریت خواتین کی ہے جو یا تو جنگجوؤں کی بیویاں ہیں یا ان کی بیوائیں۔یہیں ایک اور عمارت بھی ہے جس پر سخت پہرہ ہے۔ اسے انیکس کہا جاتا ہے۔ کیمپ کے اس حصے میں 57 ملکوں کی دو ہزار خواتین مقیم ہیں جن کے ساتھ آٹھ ہزار بچے ہیں اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ داعش کے پکے حامیوں کے لواحقین ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button