بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ جنگ کے چند ماہ میں سات ہزار اسرائیلی فوجی ذہنی اور نفسیاتی مریض بن گئے

ہمیں فوج پر بھروسہ تھا، اسی لئے 7 اکتوبر کا دھچکا لگا

مقبوضہ بیت المقدس، 18اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی میڈیا کے سروے کے مطابق غزہ میں فوجی کارروائیوں،شمالی محاذ پر کشیدگی اور ایران کے ساتھ تناؤ نے اسرائیلی فوج کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ 7 اکتوبرسے اب تک ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا فوجیوں کی تعداد 7000 سے تجاوز کر گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے بحالی ونگ کو 7 اکتوبر سے تقریباً 7000 زخمی اور ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کے کیس موصول ہوئے ہیں۔

یہ وزارت دفاع کے بحالی ڈیویژن کی طرف سے اسرائیل میں زخمیوں، نفسیاتی طور پر متاثر ہونے اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کے متاثرین کی تعداد کے اعداد و شمار شائع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد بحالی ونگ کو 7,209 زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ بحالی وارڈ میں پہنچنے والے زخمیوں میں سے تقریباً 30 فیصد جن کی تعداد 2,111 ذہنی امراض کے شکار افراد شامل ہیں۔

گذشتہ سال کے آخر میں اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے انکشاف کیا کہ فوج کے بحالی کے محکمے نے نفسیاتی امراض میں مبتلا فوجیوں کا جائزہ لینے کے لیے نفسیاتی ماہرین اور نرسوں کی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو خودکشی کے رجحانات سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہیں۔نیا پروگرام گذشتہ فروری میں نافذ ہوا، جس میں غزہ پر اسرائیل کی سابقہ جنگوں سے علاج کروانے والے 13,500 سے زائد فوجی شامل ہیں۔محکمہ بحالی میں سوشل سروس یونٹ کے سربراہ نوا رفا نے اس وقت کہا تھا کہ کچھ فوجی جن کی نفسیاتی حالت خراب ہو چکی تھی وہ اپنے سپروائزر یا خاندان کے ممبران کو فون کر کے امداد کا مطالبہ کررہے تھے۔

ہمیں فوج پر بھروسہ تھا، اسی لئے 7 اکتوبر کا دھچکا لگا: اسرائیلی وزیر خزانہ

مقبوضہ بیت المقدس، 18اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حیران کن حملہ کرکے اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت کی قلعی کھول دی۔ اسرائیل نے اس دن سے ہی غزہ پر جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے اور 194 دنوں میں 33899 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ سات اکتوبر کے حملے میں یرغمال بنائے گئے 130 کے قریب اسرائیلی اب بھی حماس کے پاس ہیں۔ تاریخ کی بدترین دہشت گردی کرنے پر ایک طرف پوری دنیا میں اسرائیل کیخلاف احتجاج کیا جارہا تو دوسری طرف اپنی ناکامی پر اسرائیل کے رہنماؤں میں بھی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان اختلافات اب ڈھکے چھپے نہیں رہے بلکہ کئی مواقع پر سامنے آچکے ہیں۔

اب ایک بیان میں اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے کہا ہے کہ فوج کو اندرونی آڈٹ کے بغیر بلینک چیک نہیں دیا جا سکتا۔ اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کے مطابق وزیر خزانہ نے اسرائیلی آرمی ریڈیو کو بیانات میں زور دیا کہ بجٹ میں اضافے کی منظوری سے پہلے فوج کو کچھ اندرونی آڈٹ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے فوج کو بلینک چیک دیا اور اس پر اندھا اعتماد کیا اور پھر 7 اکتوبر کو ہمیں حملے کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ میں فوج پر بھروسہ کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ میں ان سے پیار کرتا ہوں، ان کی تعریف کرتا ہوں، ان کی حمایت کرتا ہوں، لیکن میں انہیں بلینک چیک دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔

وزیر خزانہ سموٹریچ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ چھوٹی اور سمارٹ فوج بنانے کا تصور مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ اسرائیلی فوج کو 200 بلین شیکل مالیت کا چیک دینے کی توقع رکھتے ہیں تاکہ وہ خود کو جوابدہ بنائے بغیر اور سات اکتوبر سے سبق سیکھے بغیر جو چاہے کر سکے۔ وزیر خزانہ کا یہ بیان فوج کے بجٹ پر اسرائیلی قیادت کے درمیان کئی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔

سال 2023 کے دوران اسرائیلی فوج کا فوجی بجٹ تقریباً 31 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس بجٹ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جاری جنگ کی لاگت میں تقریباً 8 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا اور یہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ 2022 میں فوج کا بجٹ لگ بھگ 23 ارب ڈالر رہا تھا۔واضح رہے اسرائیل کا مشرق وسطیٰ میں چوتھا بڑا دفاعی بجٹ ہے اور وہ اپنی فوجوں پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں دنیا میں 17ویں نمبر پر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button