سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے کہا تب تو ہاتھ میں دستانے پہن کربچی سے گندی حرکت کرنے والاچھوٹ جائے گا
نئی دہلی، 24 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کوخارج کیاجائے جس میں #پوکسو کے تحت جرائم کے لیے ’اسکن ٹواسکن‘ یعنی جلدسے جلد چھونا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ اگر پاکسو کے تحت #جنسی جرایم کے لیے جلد سے جلد کا چھونا لازمی ہے تو جو شخص ہاتھ میں دستانے پہن کر لڑکی سے زیادتی کرے گا،وہ چھوٹ جائے گا۔اٹارنی جنرل نے اسکن ٹو سکن ٹچ کیس میں بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ساتھ ہی قومی کمیشن برائے خواتین نے علیحدہ درخواست دائر کرکے بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ساتھ ہی #مہاراشٹرا حکومت نے بھی اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ #نابالغ کا کپڑے اتارے بغیر اس کے اندرونی حصے کو چھونا #جنسی حملہ نہیں ہے جب تک کہ جلد سے جلد تک چھونا نہ ہو۔اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے 27 جنوری کو ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔
اس سے قبل اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا۔ کہا گیا تھا کہ کیس سے ایک غلط مثال قائم ہو جائے گی اور ایسی صورتحال میں ہائی #کورٹ کے حکم پر روک لگایا جائے۔



