تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ:اضلاع کے کئی مقامات پر مسلم محلوں میں این آئی اے کے دھاوے

کئی نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، نظام آباد، جگتیال، بھینسہ وغیرہ میں مسلمانوں میں خوف و دہشت کا ماحول

نظام آباد ۔ 18 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تلنگانہ کے محتلف اضلاع میں پی ایف آئی، پاپلر فرنٹ آف انڈیا سے تعلقات کی بنا پر این آئی اے افسران نے رات تین بجے نظام آباد کے مختلف علاقوں میں دھاوا کرکے آٹو نگر علاقہ سے یحییٰ، سمیر کو حراست میں لے لیا اور شیخ کاشف کو پھولانگ علاقہ پر اس کے مکان پر دھاوا کرکے پوچھ تاچھ کی گئی۔ افسران نے اسے کل حیدرآباد آفس کو طلب کیا۔ شہر نظام آباد کے مختلف علاقوں پر این آئی اے افسران کے دھاوا کرنیکی اطلاع ملتے ہی صدر جمعیۃ العلماء نظام آباد لئیق خاں نے متعلقہ افراد کے مکانات پہنچ کر ان سے ملاقات کی ہے۔ تفصیلات حاصل کیں۔ قبل ازیں حافظ لئیق خاں نے چار افراد کی گرفتاری پر پولیس کمشنر سے کامیاب نمائندگی کرتے ہوئے آرمور سے گرفتار شدہ حافظ نوید کو رہا کروانے میں کامیاب نمائندگی کی تھی۔ اب بھی موصوف مسلم نوجوان سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے ہر ممکنہ نمائندگی کرکے انصاف دلانے میں مصروف ہیں۔

جگتیال ضلع میں ین آئی اے ٹیم نے مسلم مکانات پر دھاوے کئے جس سے مسلمانوں میں خوف اور دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ پاپولر فرنٹ سے وابستہ مسلم نوجوانوں کے خلاف NIA پولس ٹیم رات 3.30 بجے سے ان کے مکانات اور دوکان پر دھاوے کئے، تقریبا 6 تا 7 گھنٹے گھروں کی تلاشی لی اس کے باوجود ین آئی ٹیم کو عرفان کے مکان سے ایک سی ڈی اور جمیل کے مکان سے پاسپورٹ درخواست زیراکس کاپی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا جمیل کے بھائی کے میڈیکل شاپ پر بھی ین آئی ٹیم نے تالے توڑ کرتقریباً تین گھنٹے چھان بین کی، کچھ نہ ملنے کی رپورٹ دے کر روانہ ہوئے، جبکہ محمد عرفان کو کریم نگر سے حراست میں لیاگیا اور ایک نوجوان ٹی آر نگر کے مکان پر بھی چھان بین کی گئی۔

گھر والوں سے پتہ معلوم کرکے شامیر پیٹھ سے حراست میں لینے کی اطلاع ہے جبکہ سلیم اور جمیل این آئی اے ٹیم کے ہاتھ نہ لگ سکے، ان کی غیر موجودگی پر انھیں این آئی اے آفس حیدرآباد 20 تاریخ کو حاضر ہونے کی نوٹس ان کے افراد خاندان کے حوالے کیے اور مکانوں اور دوکان میں کچھ نہ ملنے کی بات میڈیا کو اور عوام کو بتایا۔ ان کے رشتہ داروں نے این آئی اے ٹیم کے سامنے احتجاج اور نعرے بلند کیے، ایک طرف مقامی پولس کی جانب سے چند دنوں سے کئی ایک مسلم نوجوانوں کو ڈی یس پی آفس طلب کرکے ذہنی طور پر دباؤ بنانے اور ان کی تفصیلات اور انکی تصویر کشی سے نہ صرف نوجوانوں بلکہ ان کے والدین میں خوف اور بے چینی کی کیفیت پیدا کی جارہی ہے۔ دوسری جانب برسر اقتدار حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔

بھینسہ شہر کے مسلم محلوں میں این آئی اے (قومی تحقیقاتی ایجنسی) کی ٹیم نے چھاپہ مارتے ہوئے نوٹس جاری کی جس کی وجہ سے شہر کے مسلمانوں میں زبردست تجسس اور بے چینی کا ماحول دیکھا جارہا ہے تفصیلات کے بموجب بھینسہ شہر میں گذشتہ آدھی رات تقریبا تین بجے نئی آبادی علاقے اور صبح کے اوقات میں مدینہ کالونی علاقے میں چھاپے کرتے ہوئے پی ایف آئی تنظیم کی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات دریافت کی این آئی اے کے ہمراہ مقامی پولیس بھی دیکھی گئی۔

بھینسہ مدینہ کالونی کے شاہد چاوش ولد احمد چاوش عمر 20 سالہ کو این آئی اے نے نظام آباد سے گرفتار کرلیا اور مزید تحقیقات کے لئے مذکورہ نوجوان کے مکان کے علاوہ ایک اور نوجوان محمد ایاز ولد غلام دستگیر نئی آبادی کے مکان کی مکمل جانچ کرتے ہوئے محمد ایاز کے نام افراد خاندان کو نوٹس دیتے ہوئے ایک دن میں حیدرآباد عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی اس موقع پر متاثرہ افراد خاندان نے بتایا کہ تنقیح کے دوران تقریبا دو تین گھنٹے مکانوں کے تمام ساز و سامان اور پڑھنے لکھنے کی کتابوں کے علاوہ دیگر اشیا کی باریک بینی سے جانچ کی گئی جس کی وجہ سے ڈر و خوف کا ماحول بنا ہوا تھا۔ متاثرہ خاندان مذکورہ نوجوان لڑکوں کے مستقبل کے لیے کافی فکر مند دیکھے جارہے ہیں اور مکان کی خواتین کافی افسردہ اور غمگین حالت میں اشکبار ہوکر بے قصور لڑکوں اور افراد خاندان کو ہراساں و پریشان کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button