بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس تحریک کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے گھر پر اسرائیلی بمباری،بیٹے سمیت خاندان کے 14 افراد شہید ہو گئے۔

واقعے میں شہید ہونے والوں میں اسماعیل ہنیہ کےبھائی، بیٹے اور بھانجے بھی شامل ہیں

 غزہ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیل نے غزہ کے اسپتال پر حملہ کرنے کے ساتھ ہی حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی رہائش گاہ کو بھی بم باری کا نشانہ بنایا، جس میں ان کے بھائی، بیٹے سمیت 14 افراد شہید ہو گئے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے گھر پر بھی بم باری کردی، جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہو گئے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے علاقے شیخ رضوان میں واقع اسماعیل ہنیہ کی رہائش گاہ پر اسرائیلی فورسز نےمیزائل سے حملہ کیا، جس میں ان کے خاندان کے 14 افراد نے جام شہادت نوش کرلیا۔ واقعے میں شہید ہونے والوں میں اسماعیل ھنیہ کےبیٹے حازم اسماعیل ھنیہ ، بھائی عبدالخالق خالد ھنیہ، اور خالد ھنیہ (بھتیجا)،احمد ھنیہ (بھائی کا پوتا)  بھی شامل ہیں۔  ۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بمباری سے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے بیٹے کی موت واقع ہوئی۔اسی تناظر میں عبرانی اخبار اسرائیل ٹوڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں اسماعیل ھنیہ کے بھائی کے گھر کو نشانہ بنایا ہانیہ کے بھانجے جاں بحق ہو گئے۔

اس سے قبل آج ہی حماس تحریک نے اسرائیلی فضائی حملے میں مسلح ونگ کے فوجی کمانڈر ایمن نوفل کی شہادت اور کراسنگ اہلکار فواد ابو بطحان اور ان کے متعدد رشتہ داروں کی براہ راست اسرائیلی بمباری میں ہلاکت کا اعلان کیا۔ وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات میں ان کے گھر سے۔فلسطینی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ غزہ شہر میں شیخ رضوان محلے میں حنیہ خاندان کے گھر پر اسرائیلی بمباری میں 14 افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔فلسطینی میڈیا نے بتایا ہے کہ اس وقت غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری اور شدید ہیں، اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں جاری ہیں اور اسرائیلی شہروں اور بستیوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ خبر منگل کو وزارت داخلہ اور قومی سلامتی کے میڈیا آفس سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سامنے آئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button