قومی خبریں

انکم ٹیکس: نئی ای فائلنگ پورٹل کی خرابیاں برقرار وزارت خزانہ نے انفوسس کے سی ای او کو طلب کرلیا

نئی دہلی ، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نئے انکم ٹیکس ای #فائلنگ #پورٹل میں طویل عرصے سے تکنیکی خامیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ کئی بار وزیر خزانہ کی طرف سے انفوسس کو ان تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو دور نہیں کیا جا سکا ،جس کے بعد اب وزارت خزانہ نے انفوسس کے ایم ڈی اور سی ای او سلیل پاریکھ کو طلب کرلیا ہے۔محکمہ #انکم #ٹیکس کے مطابق وزارت خزانہ نے انفوسس کے ایم ڈی اور سی ای او سلیل پاریکھ کو 23 اگست کو طلب کیا ہے۔

جو وزیر خزانہ #نرملا سیتارمن کو بتائے گی کہ نئے ای فائلنگ پورٹل کے آغاز کے 2.5 ماہ بعد بھی پورٹل میں موجود خامیوں کو کیوں دورنہیں کیا گیا۔ وہیں 21 اگست سے پورٹل ہی دستیاب نہیں ہے۔اس سے قبل وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا تھا کہ وہ مسلسل اس موضوع پر #انفوسس کی طرف توجہ دلا رہی ہیں۔ اس نے کہا تھا کہ میں انفوسس (پورٹل تیار کرنے والی کمپنی) ، اور (انفوسس کے سربراہ) نندن نیلکانی کو مسلسل یہ اطلاع دے رہی ہوں کہ وہ یقین دہانی کے پیغامات دیں کہ وہ اگلے چند دنوں میں بڑی حد تک ان خامیوں کو دور کرلیں گے ۔

اس سے قبل وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ پورٹل جون کی نسبت اس وقت بہت بہتر کام کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی کچھ مسائل برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو سیکرٹری ہفتہ وار بنیادوں پر اس کی نگرانی کر رہے ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں ان خرابیوں کو کافی حد تک درست کر لیا جائے گا۔ واضح ہو کہ نیا انکم ٹیکس ای فائلنگ پورٹل 7 جون کو اپنے آغاز کے بعد سے ہی کئی تکنیکی خرابیوں سے گھِر گیا ہے۔انفوسس کو 2019 میں اگلی نسل کے انکم ٹیکس فائلنگ سسٹم کومرتب کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

ایسا نظام جس میں ریٹرن پر عملدرآمد کی وقت کی حد 63 دن سے کم کرکے ایک دن کی جاسکتی ہے ،اور رقم کو جلدلوٹایا جاسکتا ہے۔ حکومت نے پورٹل کی ترتیب دینے کے لئے جنوری 2019 اور جون 2021 کے درمیان 164.5 کروڑ روپے ادا کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button