حیدرآباد میں گلپھڑے کے کیسیس میں اضافہ
گزشتہ 15 دن سے روزانہ کم از کم ایک کیس کی اطلاع، گنجان آبادی کے باعث کیسیس میں اضافہ
حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حیدرآباد کے پیڈیٹریشنس کے مطابق شہر میں (mumps) گلپھڑے کے کیسیس کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جو ایک وائرل انفیکشن ہوتا ہے جس سے لعاب غدود متاثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر متاثرہ بچوں میں شدید نوعیت کی علامت نہیں دیکھی جارہی ہے پھر بھی ڈاکٹرس نے اس مرض سے متاثر ہونے والوں کو کوویڈ ۔ 19 کے وقت کے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ گلپھڑے (Mumps) ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ کانوں کے سامنے اور نیچے واقع لعاب غدود میں تکلیف دہ سوجن پیدا ہوتی ہے۔ اس مرض کے لئے کوئی علاج نہیں ہے جبکہ علاج اس کی ابتدائی علامات پر مبنی ہوتا ہے۔ تاہم ویکسینیشن اس کے تدارک کیلئے مؤثر اقدام ہے۔ حیدرآباد کے مختلف مقامات پر کئی پیڈیٹریشنس نے اس کے کیسیس میں اضافہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔
آؤٹ پیشنٹ سروسیس میں کہیں کہیں ایک یا دو کیسیس دیکھے گئے۔ 2022 ء میں اس کے کوئی کیسیس نہیں تھے۔ تاہم گزشتہ 15 دن سے زیادہ تر ڈاکٹرس کے یہاں ہر روز کم از کم ایک کیس کی اطلاع ہے۔ عارف ہیلت سنٹر چلانے والی جنرل فزیشین ڈاکٹر شبنم عارف نے کہاکہ چند دنوں سے وائرل بخار، ڈینگو، آشوب چشم کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اس میں گلپھڑے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کے دو بچوں کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن بھی حال میں گلپھڑے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شبنم نے انفیکشنس میں اضافہ کو بدلتے موسم سے منسوب کیا ہے۔ کوویڈ ۔ 19 کی طرح گلپھڑے ہوا سے ہونے والا انفیکشن ہے اور بچے اکثر اسکولس یا ڈے کیر سنٹرس میں اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔
ڈاکٹرس نے بتایا کہ گلپھڑے mumps کی علامات میں گردن میں درد، گال میں سوجن، مختلف ڈگریز کا بخار، بچے کی گردن اکڑنا شامل ہیں۔ ڈاکٹر شبنم نے کہاکہ اس انفیکشن کا بروقت پتہ چلانا اور متاثرہ بچوں یا افراد کو الگ رکھنا اہم ہوتا ہے۔ حیدرآباد میں گلپھڑے کے کیسیس میں اضافہ ہورہا ہے بالخصوص گنجان آبادی اور سلم علاقوں میں جہاں کم جگہ میں کئی لوگ رہتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے علاقوں میں اس کی شرح کم ہے۔ تمام بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے یونیورسل امیونائزیشن شیڈول میں ویکسینس کو شامل کرنا چاہئے۔ممپس کے علاج کے لیے کوئی خاص دوا یا علاج نہیں ہے۔ اینٹی بائیوٹکس اور دیگر علاج اس وائرس کے خلاف بے اثر ہیں جو ممپس کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ یہ ایک وائرل انفیکشن ہے۔ تکلیف کو کم کرنے کے لیے سوجے ہوئے گالوں پربرف لگائیں۔



