رہائی کیلئے مقررہ اسرائیلی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ، اربیل یہود کا مسئلہ حل
اسرائیلی یرغمال خاتون اربیل یہود سے متعلق بحران حل ہوگیا
مقبوضہ بیت المقدس ،27جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حماس کی قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمال خاتون اربیل یہود سے متعلق بحران حل ہوگیا ہے جب کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں بے گھر افراد کی واپسی کا معاملہ بھی طے پا گیا ہے۔اربیل یہود اور اس کا دوست ارییل کونیو سات اکتوبر 2023 کو قیدی بنا لیے گئے تھے جب کہ اربیل کا بھائی ڈولیو اسی روز ہلاک ہو گیا تھا۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی قیادت میں شامل ذریعے نے اتوار کی شام الاقصیٰ چینل کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ رواں ہفتے حوالے کیے جانے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد میں اضافے کو منظور کر لیا گیا ہے۔
ذریعے نے واضح کیا کہ زندہ قیدیوں کی تعداد توقع سے زیادہ تھی جو پورے پہلے مرحلے سے زیادہ کے تبادلے کے واسطے کافی ہے (پہلے زندہ قیدیوں کی تعداد کا تعین 18 کیا گیا تھا)۔ ذریعے کے مطابق رہا کیے جانے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں بے گھر افراد کی واپسی کا بحران دیکھا گیا، لہٰذا یہ اس بحران کا حل ثابت ہو گا۔اس سے قبل حماس نے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ اس نے اتوار کی شام وساطت کاروں کو فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران میں رہا کیے جانے والے مقررہ اسرائیلی قیدیوں کی فہرست سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم کر دی۔
حماس کا بیان قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کی جانب سے ایک سرکاری بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ وساطت کاروں کی کوششوں سے فریقین کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ حماس آئندہ جمعے سے پہلے اربیل یہود اور دو دیگر قیدیوں کو حوالے کر دے گی۔ الانصاری کے مطابق تنظیم تین اضافی یرغمالیوں کو آئندہ ہفتے کے روز واپس کرے گی۔
اس کے ساتھ سات اکتوبر 2023 سے گرفتار کیے جانے والے افراد میں 400 ناموں کی فہرست بھی حوالے کی جائے گی۔ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے اتوار کی شب بتایا کہ فلسطینی آبادی کو پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے سے نتساریم اور شارع الرشید کے راستے پیدل غزہ کی پٹی کے شمال میں واپسی کی اجازت ہو گی۔ اس کے بعد 9 بجے سے صلاح الدین کے راستے سے تلاشی کے بعد سواریوں کو شمال کی جانب جانے کی اجازت دی جائے گی۔
ادرعی کے مطابق اس دوران میں مذکور راستوں کے ذریعے مسلح افراد یا ہتھیاروں کی منتقلی کی کوئی بھی کوشش فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی شمار کی جائے گی۔ ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں بعض علاقوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں رفح کراسنگ اور فلاڈلفیا کی راہ داری (صلاح الدین راہ داری) شامل ہے۔ ادرعی نے آئندہ دنوں کے دوران سمندری سرگرمیاں انجام دینے سے بھی خبردار کیا۔یاد رہے کہ فائر بندی معاہدے کے تحت دو روز قبل اسرائیلی قیدیوں کی دوسری کھیپ کو رہا کیا گیا۔ ان میں خواتین فوجی ڈینیل گلبوع، کیرینا ارئیف، لیری الباگ اور نعمہ لیفی شامل ہیں۔
اس کے مقابل اسرائیل نے 200 فلسطینیوں کو آزاد کیا۔گذشتہ اتوار پہلی کھیپ میں تین اسرائیلی خواتین کی رہائی کے مقابل تقریبا نوے فلسطینی گرفتار شدگان کو آزاد کیا گیا تھا۔تین مراحل پر مشتمل فائر بندی معاہدے میں لڑائی کا روکا جانا اور گنجان آباد علاقوں سے اسرائیل کا انخلا شامل ہے۔معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ اس دوران میں غزہ سے اسرائیل کے 33 یرغمالیوں کو تقریبا 1900 فلسطینی قیدیوں کے مقابل آزاد کیا جائے گا۔مزید کہ پہلے مرحلے کے دوران ہی دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔



